جنوب مشرقی ایشیائی ممالک نے آج ایک دو ٹوک اپیل جاری کی کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ اور بلا تعطل آمد و رفت فوری طور پر بحال کی جائے اور خبردار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا کی نہایت اہم جہازرانی گزرگاہوں میں سے ایک کو غیر مستحکم کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔
ایک مشترکہ بیان میں، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے وزرائے خارجہ نے “تمام فریقوں” سے مطالبہ کیا کہ وہ سمندری عملے کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس اسٹریٹجک راہداری سے گزرنے والے جہازوں اور طیاروں کی سلامتی برقرار رکھیں۔
یہ اپیل اس وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے سے گزرنے والی بحری آمدورفت تقریباً رک چکی ہے جس کی وجہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکہ کی جانب سے نئی اعلان کردہ ناکہ بندی ہے۔
آسیان کے وزراء نے واشنگٹن اور تہران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر قائم رہیں اور اس بات پر زور دیا کہ صرف مسلسل مُکالمہ ہی تنازعات کے مستقل خاتمے اور طویل مدتی علاقائی استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے۔
انہوں نے اس بحران کو کم کرنے کی کوششوں میں دیگر فریقوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے کردار کو بھی تسلیم کیا۔
اس بلاک نے 8 اپریل سے نافذ ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، لیکن اس کی نازک نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
اعلیٰ سفارتکاروں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ضبط کا مظاہرہ کریں، دشمنیاں ختم کریں، اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے ہم تمام فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسی صورتحال برقرار رکھیں جو جنگ بندی کے مکمل اور مؤثر نفاذ کے لیے سازگار ہو،” اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے فریم ورک پر مبنی حل کی ضرورت پر زور دیا۔
آسیان کے پیغام کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوئی جب لندن میں قائم ایک بحری انٹیلیجنس رپورٹ میں اشارہ دیا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہازرانی پہلے ہی معطل ہو چکی ہے۔
یہ تعطل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آیا جو پیر کو نافذ ہونے والی ہےجس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور معاشی اثرات کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔















