ایشیا
3 منٹ پڑھنے
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے وزرائے خارجہ نے “تمام فریقوں” سے مطالبہ کیا کہ وہ سمندری عملے کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس اسٹریٹجک راہداری سے گزرنے والے جہازوں اور طیاروں کی سلامتی برقرار رکھیں
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
آسیان / Reuters

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک نے آج  ایک دو ٹوک اپیل جاری کی کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ اور بلا تعطل آمد و رفت فوری طور پر بحال کی جائے اور خبردار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا کی نہایت اہم جہازرانی گزرگاہوں میں سے ایک کو غیر مستحکم کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔

ایک مشترکہ بیان میں، جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے وزرائے خارجہ نے “تمام فریقوں” سے مطالبہ کیا کہ وہ سمندری عملے کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور اس اسٹریٹجک راہداری سے گزرنے والے جہازوں اور طیاروں کی سلامتی برقرار رکھیں۔

یہ اپیل اس وقت سامنے آئی ہے جب آبنائے سے گزرنے والی بحری  آمدورفت  تقریباً رک چکی ہے جس کی وجہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکہ کی جانب سے نئی اعلان کردہ ناکہ بندی ہے۔

آسیان کے وزراء نے واشنگٹن اور تہران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر قائم رہیں اور اس بات پر زور دیا کہ صرف مسلسل مُکالمہ ہی تنازعات  کے مستقل خاتمے اور طویل مدتی علاقائی استحکام کو یقینی بنا سکتا ہے۔

 انہوں نے اس بحران کو کم کرنے کی کوششوں میں دیگر فریقوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے کردار کو بھی تسلیم کیا۔

اس بلاک نے 8 اپریل سے نافذ ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، لیکن اس کی نازک نوعیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی شرائط پر سختی سے عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

اعلیٰ سفارتکاروں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ ضبط کا مظاہرہ کریں، دشمنیاں ختم کریں، اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے ہم تمام فریقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایسی صورتحال برقرار رکھیں جو جنگ بندی کے مکمل اور مؤثر نفاذ کے لیے سازگار ہو،” اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے فریم ورک پر مبنی حل کی ضرورت پر زور دیا۔

آسیان کے پیغام کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوئی جب لندن میں قائم ایک بحری انٹیلیجنس رپورٹ میں اشارہ دیا گیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہازرانی پہلے ہی معطل ہو چکی ہے۔

یہ تعطل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سامنے آیا جو پیر کو نافذ ہونے والی ہےجس سے عالمی توانائی کی ترسیل اور معاشی اثرات کے حوالے سے نئی تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

 

 

دریافت کیجیے
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے
امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا
نیٹو کا 'فرنٹ ڈور' منصوبہ ،ترک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ہدف
ترک خواتین اور مردوں کی ٹیمیں VNL فائنلز میں پہنچ گئیں
فرانس میں پھِیلتی جنگلاتی آگ،سینکڑوں افراد کا انخلا
حملے جاری رہے تو امریکہ اور اس کے عرب اتحادی بھی نہیں بچیں گے:ایران
یورپی یونین کے سفیر روس پر نئے پابندیوں کی تیاریوں میں
"الزامات بے بنیاد ہیں"عدالت میں اپنا مقدمہ چیلنج کروں گا: مادورو
امریکہ: ہم نے آج مسلسل گیارہویں رات بھی ایران پر فضائی حملے کئے ہیں