ایران مسلّح افواج اور اسلامی انقلابی گارڈ کور 'IRGC' نے وسیع پیمانے کا میزائل اور ڈرون آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ایران سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایرانی فوج اور اسلامی انقلابی گارڈ کور 'IRGC' نے وسیع پیمانے کا میزائل اور ڈرون آپریشن شروع کر دیا ہے ۔ ذرائع ابلاغ نے آپریشن کو خطّے بھر میں "دشمن کے اڈوں" کو نشانہ بنانے کی کارروائی قرار دیا اور اس کارروائی کے دوران اردن کے پرنس حسن ایئر بیس پرپیٹرول ٹینکوں اور اسلحہ گوداموں میں آگ لگنے کی اطلاع دی ہے۔
ایران پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہےکہ اردن میں واقع اس اڈے پر حملہ، ایران کے ساحلی اڈوں پر امریکی حملوں کے جواب میں شروع کی گئی کارروائی کا پہلا مرحلہ ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے جوابی آپریشن کے ابھی جاری ہونے کے بارے میں خبردار کیا اور بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حملے میں اڈّے پر ہیلی کاپٹروں کی مرمت کی تنصیبات، ایک P-8 طیارے والے ہینگر اور امریکی ڈرون کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز کو ہدف بنایا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کویت میں واقع دو فضائی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ یہ دعوے ایران اور امریکہ کے درمیان خطے بھر میں بڑھتے ہوئے جوابی حملوں کے سلسلے کے دوران سامنے آئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران "دشمن کی نقل و حرکت" کی نگرانی کے بعد شناخت کیے گئے اہداف کے خلاف کیا گیا ہے۔
ایران پاسدارانِ انقلاب 'IRGC' نے ایک الگ بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں اس کی بحری کارروائی کا مقصد دو ایسے جہاز تھے جن پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے ٹریکنگ سسٹم بند کر دیئے، بحری جہاز رانی کے قواعد کی خلاف ورزی کی اور بحری سلامتی کے لیے خطرہ پیدا کیا تھا۔
"جائز ہدف"
یہ بیان ایران کی اس وارننگ سے فوراً بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پیر کے روز ایران پر ہونے والے حملوں کے لیے استعمال ہونے والی کسی بھی جگہ کو جوابی کارروائی کے لیے "جائز ہدف" سمجھا جائے گا۔
ایران وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں ہمسایہ ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا تنصیبات کو امریکہ یا کسی دوسرے فریق کی جانب سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں۔
بیان میں کہا گیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت ہمسایہ ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے سے روکیں اور خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی حملے کے "منبع اور مقامِ پرواز" کو ایران مسلح افواج نشانہ بنائیں گی۔
یہ پیش رفت اس اعلان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی ہے۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کا مقصد آبنائے ہرمز میں تہران کی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے گزشتہ 22 گھنٹوں کے دوران ہونے والے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
وزارت نے واشنگٹن پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ اس نے 25 روز قبل دستخط کردہ مفاہمتی یادداشت کی تقریباً تمام شقوں کی خلاف ورزی کی ہے اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے، ماہی گیری کی کشتیوں، مال بردار جہازوں اور موسمیاتی تنصیبات کو نشانہ بنا کر "جنگی جرم" کا ارتکاب کیا ہے۔ مزید برآں، امریکہ پر آبنائے ہرمز سے متعلق ضوابط میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس اقدام سے اس اہم آبی گزرگاہ پر عدم اعتماد پیدا ہوا ہے اور بین الاقوامی تجارتی بحری نقل و حمل متاثر ہوئی ہے۔




















