سیاست
3 منٹ پڑھنے
امریکہ صرف نوٹس پر مہاجرین کو ملک بدر کر سکتا ہے
اب صرف چھ گھنٹے کے نوٹس پر مہاجرین کو ان کے اپنے ممالک کے علاوہ دیگر ممالک کی طرف بھی ملک بدر کیا جا سکتا ہے: آئی سی ای
امریکہ صرف نوٹس پر مہاجرین کو ملک بدر کر سکتا ہے
The Department of Homeland Security has yet to confirm how many may be affected by the new policy. / Reuters

امریکہ کا محکمہ برائے امورِ مہاجرین'آئی سی ای' اب صرف چھ گھنٹے کے نوٹس پر مہاجرین کو ان کے اپنے ممالک کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ملک بدر کر سکتا ہے، چاہے وصول کرنے والے ممالک کی طرف سے حفاظت کی ضمانت نہ بھی ہو۔

واشنگٹن پوسٹ کی خبر کے مطابق آئی سی ای کے ڈپٹی ڈائریکٹر 'ٹوڈ لیونز' نے بدھ کے روزمحکمے کے عملے کے لئے جاری کردہ اعلامیے میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے مہاجرین کو ملک بدر کرنے کا کام آسان بنا دیا ہے۔یہ فیصلہ، مہاجرین پر تشّدد یا ظلم  کے خطرے کے مقابل سفارتی یقین  دہانی فراہم نہ کرنے والے ممالک کی طرف ملک بدریوں کا بھی احاطہ کرتا ہے۔  

خبر میں اعلامیے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ عام حالات میں، ملک بدر کیے جانے والے افراد کو 24 گھنٹے کا نوٹس دیا جائے گا لیکن "ہنگامی حالات" میں یہ عمل صرف چھ گھنٹے کے نوٹس پر بعد بھی مکمل کیا جا سکتا ہے ۔

یہ پالیسی سابقہ طریقہ کار سے ایک نمایاں انحراف کی نشاندہی کرتی ہے جس میں افراد کو شاذ و نادر ہی تیسرے ممالک میں بھیجا جاتا تھا۔

امیگریشن وکلاء نے خبردار کیا ہے کہ یہ تبدیلی ہزاروں افراد کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور خاص طور پر ایسے افراد کو  جنہیں پہلے ان کے اپنے ممالک  واپس بھیجا جانا خطرناک سمجھاگیا تھا۔

قومی مہاجرت مقدمات  یونین کی سربراہ 'ٹرینا ریلموٹو 'نے کہا ہے کہ "اس فیصلے سے ہزاروں زندگیوں  کوظلم و تشدد کا خطرہ لاحق ہو جائے گا لہٰذا  ہماری تنظیم اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر رہی ہے"۔

لیونز کا جاری کردہ ضابطہ عمل  ، امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے قبول کردہ یقین دہانیوں کی بنیاد پر، فوری ملک بدری کی اجازت دیتا ہے۔

اگر کوئی یقین دہانی موجود نہ ہو، تو بھی مہاجرین کو ملک بدر کر دیا جائے گالیکن اگر مہاجرین  اس  مختصر نوٹس کے دوران خوف کا اظہار  کریں تو ملک بدری کا عمل روک دیا جائے گا۔

جو افراد خوف کا اظہار کریں گے، ان کی 24 گھنٹوں کے اندر اندر جانچ پڑتال  کی جائے گی تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ وہ امریکی قانون اور 1994 میں امریکہ کے منظور کردہ کنونشن اگینسٹ ٹارچر کے تحت تحفظ کے اہل ہیں یا نہیں۔

23 جون کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے اس پالیسی پر زیریں  عدالت کی پابندی کو ختم کر دیا ہے۔

اختلافی رائے میں، جسٹس سونیا سوٹومئیر نے خبردار کیا ہے کہ "زندگی اور موت کے معاملات میں احتیاط سے کام لینا بہتر ہے۔"

بشمول وکلاء اور مہاجرین کے حامیوں  کے ناقدین کی دلیل ہے کہ اعلامیے  میں بیان کردہ طریقہ کار مہاجرین کو ممکنہ خطرناک ملک بدریوں پر قانونی اعتراضات کے لیے مناسب وقت یا قانونی تحفظ فراہم نہیں کرتا۔

ایک متعلقہ کیس میں مرکزی وکیل، سائمن سینڈووال۔موشینبرگ نے کہا ہے کہ "یہ وہ افراد ہیں جو سمجھتے تھے کہ اب وہ خطرے سے باہر ہیں۔"

محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ نئی پالیسی سے کتنے افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

دریافت کیجیے
ٹرمپ: ہم ایردوان کے ساتھ ایف-35 کے معاملے پر بات کریں گے
ترک وزیر خارجہ فیدان: یورپی سلامتی کو یورپی یونین تک محدود نہیں کیا جا سکتا
فیدان  کے انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل امریکی سینیٹرز سے مذاکرات
یورپ انقرہ میں نیٹو اجلاس کو ٹرمپ کو اجتماعی دفاع میں اپنی دلچسپی دکھانے کا ،مظاہرہ کرے گا: جرمنی
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل پوتن اور ٹرمپ کی یوکرین کے معاملے پر بات چیت
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
روس اور امریکہ پر  عظیم جوہری طاقتیں ہونے کے ناطے عالمی سلامتی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پوتن
ایردوان اور میلونی نے انقرہ نیٹو سمٹ سے قبل دفاعی روابط پر بات چیت کی
یوکرین سے ایران تک: نیٹو انقرہ سمٹ میں زیر غور آنے والے ممکنہ موضوعات کا جائزہ
نیٹو سیکریٹری جنرل: "ترکیہ میثاق کی سب سے طاقتور افواج میں سے ایک ہے"
امریکہ نے اسرائیل اور لبنان امن  معاہدے کے فریم کی تفصیلات جاری کر دیں
میلونی: ٹرمپ کے تبصروں سے مجھے ' سخت حیرانگی' ہوئی ہے
امریکہ اور ایران نے سوئٹزرلینڈ میں اعلی سطحی مذاکرات مکمل کر لیے ہیں، ثالث ممالک
وٹکوف اور عراقچی اسرائیل کے لبنان پر قبضے کے دوران سویٹزرلینڈ میں مذاکرات کے لیے جا رہے ہیں
ممکن ہے کہ نیتن یاہو ٹرمپ کے ایران امن معاہدے کو خطرے میں ڈال دے: امریکی انٹیلی جنس
امریکہ اور ایران کے درمیان مقرر کردہ مذاکرات میں تاخیر
امریکہ-ایران معاہدے سے متعلق تیکنیکی مسائل تا حال حل نہیں ہوئے: ترک وزیر خارجہ
2022 کا استنبول یوکرین معاہدہ مغربی مداخلت کی وجہ سے بگڑا، روس کا دعوٰی
امریکہ-ایران امن معاہدے کے باوجوداسرائیلی فوج لبنان میں طویل المدت قبضے کی تیاری کر رہی ہے — رپورٹ
لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے 'لازمی شرط' ہے: وزیر خارجہ عراقچی