دنیا
2 منٹ پڑھنے
حوثیوں کی دھمکی: اسرائیلی بحری آمدو رفت پر مکمل پابندی لگا دیں گے
ہم، بحیرہ احمر میں، اسرائیلی بحری آمدو رفت پر مکمل اور بلا کم و کاست پابندی لگا دیں گے: حوثی
حوثیوں کی دھمکی: اسرائیلی بحری آمدو رفت پر مکمل پابندی لگا دیں گے
[فائل] 29 اگست 2024 کو جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں بحیرہ احمر میں یونانی پرچم بردار تیل کے ٹینکر 'سونیون' کے ڈیک پر ہونے والے دھماکے۔

یمن کے حوثیوں نے کہا ہے کہ "ہم بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری آمدو رفت پر مکمل اور بلا کم و کاست پابندی لگا دیں گے"۔

 خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد یمن کے حوثیوں نے آج بروز سوموار جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ وہ بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری آمد و رفت پر "مکمل اور جامع پابندی" نافذ کریں گے۔ گروپ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل سے منسلک جہازوں کو دوبارہ نشانہ بنایا جائے گا۔

حوثیوں نے یافا  میں حساس اسرائیلی  اہداف پر میزائل حملوں کا بھی دعوی کیا اور کہا ہے کہ یہ حملے کامیابی سے اپنے اہداف تک پہنچے ہیں۔

"کشیدگی کا جواب کشیدگی سے دیں گے"

گروپ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ میزائل حملے اسرائیل کی جانب سے ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور یمن میں جاری "جارحیت" کے جواب میں کئے گئے ہیں۔

مزید کہا گیا ہے کہ زمینی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت کے مطابق فوجی کارروائیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔

حوثیوں نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ  "ہم تصدیق کرتے ہیں کہ کشیدگی کا جواب کشیدگی سے دیا جائے گا"۔جس سے اشارہ ملا ہے کہ آئندہ دنوں میں ان کی کارروائیوں میں شدت آ سکتی ہے۔

اسرائیلی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق دن کے اوائل میں یمن سے داغا گیا ایک میزائل فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا تھا  اور حملے کے بعد اسرائیلی فضائی حدود کو عارضی طور پر پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل کے، بیروت کے جنوبی مضافات پر، حملہ کرنے کے بعد سے علاقے میں کشیدگی  مزید بڑھ گئی ہے۔ حملے کے بعد ایران نے بھی اسرائیل کے شمالی علاقوں کی جانب متعدد میزائل داغےہیں۔

خبروں  کے مطابق اسرائیل نے بھی ایران کے مغربی اور وسطی علاقوں کو نشانہ بنایا اور دارالحکومت تہران کے علاوہ اصفہان اور تبریز سمیت کئی شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔