یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا نے کہا ہے کہ متحدہ امریکہ بین الاقوامی قواعد و ضوابط پر مبنی نظام کو چیلنج کر رہا ہے، اور خبردار کیا کہ بڑھتی ہوئی جیوپولیٹیکل کشمکش بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر قائم عالمی نظام کو کمزور کر رہی ہیں۔
منگل کو برسلز میں یورپی یونین سفیروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کوستا نے کہا کہ دنیا ایک نئی جیوپولیٹیکل حقیقت میں داخل ہو رہی ہے جہاں بڑی طاقتیں عالمی معیارات کو بڑھتی ہوئی شدت کے ساتھ آزما رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ"ہم اس نئی حقیقت سے واقف ہیں،ایک ایسی حقیقت جس میں روس امن کی خلاف ورزی کرتا ہے، چین تجارت میں خلل ڈالتا ہے اور امریکہ بین الاقوامی قواعد و ضوابط پر مبنی نظام کو چیلنج کرتا ہے۔’’
کوستا نے کہا کہ یورپی یونین کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون میں درج اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ"ہمارے مفاد میں ہے کہ دنیا قواعد پر مبنی اور تعاون پر مبنی رہے اور دنیا کو مزید ٹکڑوں میں بٹنے سے بچایا جائے۔"
انہوں نے خبردار کیا کہ ابھرنے والی کثیرالقطبی دنیا کے لیے مضبوط کثیرالطرفہ تعاون کی ضرورت ہے، نہ کہ اس طرح کے اثر و رسوخ کے حلقوں کی طرف واپسی جہاں طاقت کی سیاست بین الاقوامی قانون کی جگہ لے لے۔
کوستا نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا بھی تذکرہ کیا، احتیاط کا مطالبہ کیا اور مزید تشدد کی وارننگ دی، جبکہ شہریوں کے تحفظ اور جوہری سلامتی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
یورپی یونین کے رہنما نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جیسے خلل پڑنے سے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
کوستا نے حالیہ حملوں کے باعث ایران میں پیدا ہونے والے تنازع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "اب تک، اس جنگ میں صرف ایک فاتح ہے اور وہ ہے روس ۔
انہوں نے کہا کہ "جب توانائی کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو یہ (روس) یوکرین کے خلاف اپنی جنگ کے لیے نئے وسائل حاصل کر لیتا ہے۔"
کوستا نے مزید کہا کہ"یہ ان عسکری صلاحیتوں کے رخ موڑنے سے فائدہ اٹھاتا ہے جو ورنہ یوکرین کی حمایت کے لیے بھیجی جا سکتی تھیں، اور مشرق وسطیٰ کے تنازع کے مرکزی منظرعام پر آنے سے یوکرینی محاذ کو کم توجہ ملنے سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔"
کوستا نے کہا کہ یورپی یونین ایران کے عوام کے ساتھ ہے اور ان کے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کی حمایت کرتی ہے، مگر زور دیا کہ عسکری کارروائی آزادی یا انسانی حقوق نہیں لا سکتی۔
انہوں نے کہا"ہمیں یقین ہے کہ انسانی حقوق اور آزادیوں کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے، مگر آزادی اور انسانی حقوق بموں کے ذریعے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ صرف بین الاقوامی قانون ہی انہیں برقرار رکھ سکتا ہے۔"
انہوں نے اعتراف کیا کہ بحرانوں کے دوران یورپی یونین کو کبھی کبھی فوری اتفاق رائے تک پہنچنے میں دشواری ہوتی ہے، مگر کہا کہ بلاک کو ماضی کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے۔
کوستا نے کہا کہ"میں تسلیم کرتا ہوں کہ کبھی کبھی بروقت متفقہ موقف اختیار کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔ تاہم، ہمیں قیمتی اسباق ملنے چاہئیں تھے، جیسے کہ فوری حالات میں تیزی سے ردعمل کی ضرورت، جیسا کہ ہم نے غزہ میں دیکھا۔"









