جاپان کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ جاپان، امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان تعاون "انتہائی اہم" ہے۔
یہ بیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سیئول کے ساتھ ایک روز بعد متوقع فوجی مشقوں کے دائرۂ کار کو مشقوں کے آغاز سے محض چند گھنٹے قبل محدود کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
شنجیرو کوئزومی نے آسٹریلیا میں اپنے ہم منصب رچرڈ مارلس کے ساتھ ملاقات کے بعد آج بروز منگل جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "جاپان کو جنگ کے بعد کے سنگین ترین اور پیچیدہ ترین سکیورٹی ماحول کا سامنا ہے لہٰذا خطے کے امن و استحکام کی خاطر جاپان، امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان تعاون انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔"
کینبرا میں طے پانے والی جاپان۔آسٹریلیا ملاقات ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے ساتھ اپنے تعلقات کی تعریف کرنے اور واشنگٹن کی ایران مخالف جدوجہد میں مدد سے انکار کی وجہ سے جنوبی کوریا پر سخت تنقید کرنے سے چند گھنٹے بعد ہوئی۔
ٹرمپ کے بیانات کے بارے میں سوال کے جواب میں آسٹریلیا کے وزیرِ دفاع رچرڈ مارلس نے کہا ہے کہ ان کا ملک "شمالی کوریا کے جوہری پروگرام اور میزائل پروگرام کے حوالے سے بہت زیادہ تشویش میں مبتلا ہے اور ہم اس معاملے کو مسلسل اٹھاتے رہے ہیں۔"
مارلس نے مزید کہا ہے کہ "ہمیں جس مشکل دنیا کا سامنا ہے اس میں بہت سے مسائل ہیں اور ان مسائل کی اکثریت کا باعث شمالی کوریا ہے۔"
واضح رہے کہ ٹرمپ نے پیر کے روز جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ کم جونگ اُن نے دوطرفہ سربراہی ملاقات کی درخواستوں کا مثبت جواب دیا ہے اور ان کے ساتھ ٹرمپ کے تعلقات نے خطے کو "زیادہ محفوظ" بنا دیا ہے۔
کم جونگ اُن کے حوالے سے امریکی صدر کی یہ مفاہمتی کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ اور جنوبی کوریا کے تعلقات دباؤ کا شکار ہیں۔
صدر ٹرمپ اب سیئول کو ا ایک ایسے ساجھے دار کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو امریکہ میں براہِ راست سرمایہ کاری کر سکتا اور کئی سالوں سے گراوٹ کی شکار امریکی بحری جہاز سازی صنعت کو دوبارہ بحال کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

















