غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل نے مزید پانچ صحافیوں اور ایک فائر فائٹر کو قتل کر دیا
اسرائیلی فوج نے ہسپتال پر دو فضائی حملے کئے ہیں ۔ دوسرا حملہ اس وقت کیا گیا جب امدادی ٹیمیں زخمیوں کو نکالنے اور لاشوں کو ملبے سے نکالنے میں مصروف تھیں
اسرائیل نے مزید پانچ صحافیوں اور ایک فائر فائٹر کو قتل کر دیا
گاڑی میں صحافیوں کے استعمال کے لیے بنائے گئے خیمے پر اسرائیلی حملے کے بعد ایک میڈیا اہلکار نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ (11 اگست 2025، غزہ شہر) / Reuters

اسرائیل نے بروز سوموار جنوبی غزّہ کے علاقے 'خان یونس' میں واقع ناصر میڈیکل کمپلیکس پر حملہ کر کے پانچ صحافیوں اور ایک فائر فائٹر سمیت گیارہ فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔

طبی ذرائع اور عینی شاہدوں کی اناطولیہ خبر ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات  کے مطابق صحافی احمد ابو عزیز اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کے بعد شہید ہو گئےہیں۔ اس نقصان کے بعد صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔

فلسطین سرکاری ٹی وی کے مطابق شہید ہونے والوں میں اس کے کیمرہ مین حسام المصری بھی شامل ہیں۔ قطری چینل الجزیرہ نے بھی اپنے فوٹوگرافر محمد سلامہ کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔

اناطولیہ خبر ایجنسی کے حوالے سے ایک طبی ذرائع نے فوٹو جرنلسٹ مریم ابو دقہ کی شہادت کی بھی تصدیق کی ہے۔

فوٹو جرنلسٹ معاذ ابو طحہ بھی اسرائیل کی طرف سے ہسپتال پر کئے گئے  حملے میں  شہید ہو گئے ہیں۔

فلسطین سول ڈیفنس نےجاری کردہ بیان میں کہا  ہے کہ حملے کے دوران فائر بریگیڈ کا ایک ڈرائیور شہید اور زخمیوں کو بچانے اور ملبے تلے دبی لاشوں کو نکالنے کے دوران اس کی ٹیم کے سات دیگر افراد زخمی ہو گئے ہیں  ۔

اناطولیہ کے نمائندوں کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایمرجنسی عمارت کی' الیسین فلور' نامی بالائی منزل کو نشانہ بنایا ہے۔

قبل ازیں غزہ وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس حملے میں آٹھ افراد ہلاک  اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔

وزارت نے مزید کہا  ہےکہ اسرائیلی فوج نے کمپلیکس کی ایک عمارت کی چوتھی منزل پر دو فضائی حملے کئے ہیں۔ دوسرا حملہ اس وقت کیا گیا کہ جب امدادی ٹیمیں زخمیوں کو بچانے اور لاشوں کو ملبے سے نکالنے کے لیے موقع پر موجود تھیں۔

صحافیوں کا یہ تازہ قتل عام  10 اگست کو غزہ شہر میں کئے گئے  الجزیرہ کے 6 صحافیوں  کے قتل عام کے بعد کیا گیا ہے۔ 10 اگست کے قتل عام میں اسرائیلی حکام نے مقتول صحافیوں  میں سے ایک کو حماس کا کمانڈر قرار دیا تھا لیکن کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا تھا۔

ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق  7 اکتوبر 2023 کو جنگ کے آغاز  کے بعد سےتاحال اسرائیل کم از کم 244 صحافیوں اور میڈیا کارکنوں  کو قتل کر چکا ہے۔ 500 سے زیادہ صحافی اور میڈیا کارکن زخمی، بے گھر یا جلاوطنی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اگرچہ اسرائیل صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے لیکن سرحدوں سے آزاد  رپورٹروں (RSF) اورصحافیوں کی بین الاقوامی  فیڈریشن (IFJ) پر مشتمل مبصر گروپوں  نے  صحافیوں کے خلاف 'بے مثال تشدد' کی مذمت کی اور آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

دریافت کیجیے
اسرائیل: انتخابی کمیٹی نے نیتن یاہو کو جرمانہ کر دیا
صدر ایردوان، برسوں سے غزہ کی سب سے بلند آواز رہے ہیں
مصر: صدر سیسی جنوبی کوریا پہنچ گئے
"ایک  سنہرے دور کا اختتام" میسی نے فٹ بال کو خیر باد کہہ دیا
پاکستان:طویل الفاصلہ فتح-4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
ماسکو یوکرین پر  بڑے حملے کی تیاری کر رہا ہے: زیلینسکی
بھارت: پولیس نے راہول گاندھی کو گرفتار کر لیا۔
حوثیوں کا دعوی: سعودی ہوائی اڈوں اور فوجی بیسوں پر ڈرون اور میزائل حملے کئے گئے ہیں۔
صدر رجب طیب اردوان کا استنبول کے 103 ویں یوم ِنجات پر خصوصی پیغام
امریکہ: نضال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی جائے گی
اسرائیل نے فوج کو غزہ پر حملوں کے لئے تیاری کا حکم دے دیا
امریکی وزیر خارجہ اچانک آئس لینڈ پہنچ گئے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"