روسی صدر ولاڈیمیر پوتن نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات کی اور انقرہ میں ہونے والے نیٹو سمٹ کے پیشِ نظر یوکرین کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا، کرملن نے کہا۔
یوری اوشاکوف، کرملن کے خارجہ پالیسی کے مشیر نے کہا کہ صدران نے فطری طور پر یوکرین میں کسی تصفیے کے معاملے کو زیرِ بحث لایا، خاص طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ترکی میں 7 اور 8 جولائی کو ہونے والی نیٹو کانفرنس میں شرکت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے۔
اوشاکوف نے کہا کہ ٹرمپ نے پوتن سے تقریباً 90 منٹ تک فون پر گفتگو کی اور یوکرین جنگ کے حل میں مدد کی پیشکش کی۔
اوشاکوف نے کہا کہ ٹرمپ نے یہ پیشکش اپنی شرکت کے سیاق و سباق میں کی، جو وہ اگلے ہفتے ترکی میں نیٹو سمٹ میں کریں گے۔
اُنہوں نے امریکی صدر کے الفاظ نقل کرتے ہوئے کہا کہ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کوشنر مصالحت کی کوششیں جاری رکھیں گے اور دوبارہ ماسکو کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
کرملن کے مشیر نے کہا کہ پوتن نے ٹرمپ کو میدانِ جنگ کی حقیقت پسندانہ تصویر فراہم کی، جہاں روسی کمانڈروں نے جمعہ کو کہا کہ ماسکو کی افواج نے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم شہر کوستیانٹینِوکا (Kostiantynivka) پر قبضہ کر لیا ہے۔
ہفتے کو یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی اور جنرل اسٹاف نے اس دعوے کی تردید کی اور کہا کہ وہ اب بھی اس مشرقی شہر پر کنٹرول رکھتے ہیں۔













