حکام اور مقامی میڈیا نے بتایا ہے کہ شمال مغربی ریاست کیبی کے ایریوا علاقے کے گاؤں فاسکن رافی پر لاکوراوہ باغیوں کے حملے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے۔
اتوار کے روز ہونے والے اس حملے کو رہائشیوں نے حالیہ دنوں میں کمیونٹی پر کیے جانے والے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک قرار دیا، جس میں متعدد افرادزخمی بھی ہوئے، متاثرین کو قریبی طبی مراکز میں علاج معالجہ فراہم کیا جا رہا ہے۔
ریاست کیبی کی حکومت نے واقعے کی تصدیق کی اور ڈپٹی گورنر عمر تافیدہ کی قیادت میں ایک وفد متاثرہ کمیونٹی کو بھیجا تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی جائے۔
دورے کے دوران تافیدہ نے ہلاکتوں کی مذمت کی اور مزید حملوں کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کا وعدہ کیا۔
انہوں نے کہا، " جانوں کا ضیاع نے ہمیں گہرا دکھ پہنچایا ہے۔ ہماری انتظامیہ امن کی بحالی کے عزم پر قائم ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ علاقے میں اضافی سیکیورٹی اہلکار اور آپریشنل وسائل تعینات کیے جائیں گے۔
شمال مغربی نائجیریا میں سیکیورٹی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جہاں کمیونٹیاں مسلح گروہوں بشمول لاکوراوہ باغیوں کے حملوں کا سامنا کرتی رہتی ہیں، جنہوں نے کیبی اور ہمسایہ سوکوٹو ریاست کے علاقوں میں اپنی کارروائیواں میں تیزی لائی ہے۔
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب ارگونگو کے امیر محمد میرا نے مسلسل مسلح حملوں کے پس منظر میں چند دن قبل اپنے علاقوں سے قانونی خود دفاع کے اقدامات، بشمول ہتھیاروں کے قانونی اجازت نامے حاصل کرنے، پر غور کرنے کی اپیل کی تھی،
کیبی ریاست کے ایریوا علاقے میں حالیہ مہینوں میں متعدد ہلاکت خیز حملے دیکھے گئے ہیں۔
فروری میں اسی مقامی حکومتی علاقے میں لاکوراوہ باغیوں نے متعدد دیہاتوں پر مربوط حملے کیے تھے جن میں 30 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
لاکوراوہ گروپ پچھلے چند سالوں میں شمال مغربی نائجیریا میں ابھرا، اور نائجیریا اور نائجر کے درمیان خستہ حال سرحدی علاقوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دور دراز کمیونٹیز میں قدم جما گیا۔
ابتدائی طور پر یہ گروپ خود کو مذہبی اصلاحی تحریک اور مقامی سیکیورٹی فراہم کرنے والا ظاہر کرتا تھا، مگر بتدریج اس کے تعلقات پرتشدد حملوں، جبراً رقم وصولی، مویشی چوری اور سخت نظریاتی قوانین کے نفاذ سے جوڑے جانے لگے۔
نائجیریائی حکام نے 2024 میں لاکوراوہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا اور تب سے اس کے جنگجوؤں کے خلاف فوجی کارروائیاں تیز کر دی گئیں، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ وسیع ساحل خطے میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس سے روابط رکھتے ہیں۔












