دنیا
3 منٹ پڑھنے
روس کا کیف پر شدید حملہ،9 افراد ہلاک
روسی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ انہوں نے کیف پر ایک بڑے پیمانے پر حملہ شروع کیا ہے  جو کہ   ہمارے  شہری انفراسٹرکچر پر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کا جواب ہے
روس کا کیف پر شدید حملہ،9 افراد ہلاک
روس-یوکرین / Reuters

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے ماسکو کے ایک بڑے پیمانے پر حملے کی تیاری سے متعلق انتباہ کے فوراً بعد  آج  صبح روسی میزائلوں اور ڈرونز  سے کیے گئے حملوں نے دارالحکومت کیف کو نشانہ بنایا جس میں کم از کم نو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

روسی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا کہ انہوں نے کیف پر ایک بڑے پیمانے پر حملہ شروع کیا ہے  جو کہ   ہمارے  شہری انفراسٹرکچر پر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کا جواب ہے۔

یہ حملہ یوکرینی فضائیہ کی اس وارننگ کے بعد ہوا جس میں کہا گیا تھا کہ بیلسٹک میزائل دارالحکومت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

 دوسری طرف صدر زیلنسکی نے گزشتہ  روز روسی حملے سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا دورۂ ڈبلن وقت سے پہلے ختم کر دیا۔

کیف کے وسطی اور مشرقی حصوں میں موجود اے ایف پی  کے صحافیوں نے بتایا کہ انہوں نے دس سے زیادہ دھماکوں کی آوازیں سنیں اور بچوں سمیت کچھ شہریوں کو اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لیتے ہوئے دیکھا۔

یوکرین  کی اسٹیٹ ایمرجنسی سروس نے رپورٹ کیا کہ ان حملوں میں نو افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے ہیں۔

کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے روس پر جان بوجھ کر شہریوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔

زیلنسکی نے گزشتہ  روز بتایا کہ وہ روس کے بڑے حملے کی تیاری سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹس کی وجہ سے ڈبلن سے جلدی واپس آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنے لوگوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ خاص طور پر محتاط رہیں، اپنی، اپنے بچوں اور یقیناً اپنے خاندانوں کی حفاظت کریں، پناہ گاہوں کا استعمال کریں اور یوکرین میں فضائی حملے کے انتباہات پر عمل کریں۔"

زیلنسکی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کافی عرصے سے اس حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

دوسری جانب، یوکرین نے بھی حالیہ ہفتوں میں روس کے اندر توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں میں تیزی لائی ہے۔

روسی حکام نے سرحدی علاقوں میں بار بار ہونے والے حملوں کی اطلاع دی ہے، جبکہ ماسکو کا کہنا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے حالیہ دنوں میں یوکرائن کے سینکڑوں ڈرونز کو ناکارہ بنایا ہے۔

امریکہ میں قائم سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کی بدھ کو شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، یوکرین میں روس کی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 20 لاکھ سے زیادہ فوجی ہلاکتیں اور نقصانات ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت روسی افواج کی ہے۔

تنازع کو ختم کرنے کے لیے امریکہ کی قیادت میں کی جانے والی کوششیں اب تک ناکام رہی ہیں۔

زیلنسکی نے بدھ کے روز ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ روس کا رہنما جنگ ختم کرنے سے مکمل طور پر انکار کر رہا ہے۔

زیلنسکی نے مزید کہا کہ یوکرین مختلف سرکاری اور غیر سرکاری ذرائع سے مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کر چکا ہے لیکن ماسکو اپنی جارحیت کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔

 

دریافت کیجیے
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت
ایرانی فوج دفاعی نظریے سے حملہ آور نظریے کی طرف مڑ رہی ہے: فوجی ترجمان
امریکہ: چارٹر طیارے کے حادثے میں تمام 8 افراد ہلاک
روس: ماسکو ایران پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا
امریکہ: ٹریژری بانڈوں کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ گئی
فلسطین: عالمی کمپنیاں اسرائیل کے 'ای 1' منصوبے میں شرکت سے گریز کریں
پاکستان: ڈار۔شیبانی ملاقات، دوطرفہ تعاون و علاقائی صورتحال پر بات چیت
ترکیہ کی زیرِ آب گاڑی نمائش کے لئے پیش کر دی گئی
اسرائیل کی جنوبی لبنان پرگولہ باری
شامی وزیر  خارجہ پاکستان میں، دو طرفہ مذاکرات کریں گے
شمالی چین میں آتشزدگی، 8 افراد ہلاک، 3 زخمی