غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تنازع سے ہتھیاروں پر پابندی لگ سکتی ہے — رپورٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لبنان میں اسرائیل کی کشیدگی پر تنقیدی بیانات اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بارے میں ان کے ذاتی تبصرے امریکی دباؤ کی علامت ہیں۔
اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تنازع سے ہتھیاروں پر پابندی لگ سکتی ہے — رپورٹ
ایران ڈیل پر امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ۔ (فائل) / AP

اسرائیلی روزنامہ ''معاریو'' نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے ساتھ دراڑ اسلحہ پر پابندی اور سکیورٹی پابندیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

رپورٹ میں جمعرات کو کہا گیا کہ اسرائیلی حکام اس بات پر فکرمند ہیں کہ اگر تل ابیب اپنی موجودہ پوزیشن پر قائم رہا تو واشنگٹن کے ساتھ سنگین اختلافات، جو حال ہی میں دستخط ہونے والی امریکی-ایران مفاہمتی یادداشت کے دوران گہرے ہوئے ہیں، اسلحہ کی ترسیل میں تاخیر، فوجی امداد پر پابندیاں، اور ممکنہ طور پر سخت اقدامات بشمول اسلحہ پر پابندیوں  کا سبب بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لبنان میں اسرائیل کی کشیدگی پر تنقیدی بیانات اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے بارے میں ان کے ذاتی تبصرے امریکی دباؤ کی علامت ہیں، جو واشنگٹن اور تہران کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد مزید شدید ہونے کی توقع ہے۔

رپورٹوں کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ نے نیتن یاہو پر شمالی محاذ کے معاملے میں لچک دکھانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے، تاکہ ایران کے ساتھ معاہدے کے دستخط کو ممکن بنایا جا سکے۔

اخبار کے مطابق حکام نے کہا کہ امریکی مطالبات میں جنوبی لبنان کے پانچ مقامات سے انخلا، شام کے ہرمن علاقے سے انخلا، اور ایسی نمایاں کمی شامل ہے جس سے فوجی کشیدگی میں کمی نہ ہوئی تو ایران کے ساتھ سفارتی عمل داؤ پر لگ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اپنا دباؤ جاری رکھے گا اور نیتن یاہو سے انخلا کا وعدہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

تعلقات میں کشیدگی

حکام کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ساتھ تعلقات درست کرنے کی کوششیں جاری ہیں، اور ٹرمپ سے ملاقات یا ایک اعلیٰ سطحی وفد کو واشنگٹن بھیجنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے، حالانکہ تاحال امریکی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

اس سے قبل، ٹرمپ نے اسرائیل ٹی وی چینل  KAN کو بتایا تھا کہ وہ اکتوبر کے انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم یہ تبصرہ اسی کے بعد آیا جب انہوں نے لبنان میں اسرائیل کی کارروائی پر نیتن یاہو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

جی۔7 میں ٹرمپ نے کہا: 'ہمیں لبنان کو لے کر تھوڑا سا اختلاف ہے۔ میں کہتا ہوں، ''آپ تھوڑا نرم انداز اپنا سکتے ہیں، بیبی۔ ہر بار جب کوئی حزب اللہ کا رکن گزرتا ہے تو ہر بار کوئی عمارت گرانے کی ضرورت نہیں ہے۔''

لبنان پر اسرائیلی حملے کے سلسلے میں ایک کشیدہ نجی فون کال میں، جس نے امریکی-ایران مذاکرات کو خطرے میں ڈال دیا تھا، ٹرمپ نے مبینہ طور پر سخت انداز اپنایا، نیتن یاہو کو ' پاگل' قرار دیا اور یہاں تک کہ ایسی سخت زبان استعمال کی: 'تم کیا بیوقوفی  کر رہے ہو؟'

 

 

دریافت کیجیے
"جشنِ آزادی پاکستان" اسلام آباد میں آتشبازی کا شاندار مظاہرہ
امن کی تلاش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے:شہباز شریف
مصر میں ایک شاپنگ مال میں دھماکے میں 3 افراد ہلاک، 17 زخمی
ترکیہ۔پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے: انقرہ
پولینڈ: 19 ملین افراد کی طبّی معلومات چوری ہو گئیں
ترکیہ: ،علی خان کوریش نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کا آغاز
نارویجیئن وزیر  خارجہ کا دورہ پاکستان،اہم امور پر  تبادلہ خیال
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کا اسرائیلی دعوی مشکوک ہے:سی آئی اے
فرانس: ایران مظاہرین کو سزائے موت دینا بند کرے
انڈونیشیا: مسافر بردار کشتی میں آگ لگ گئی، ایک مسافر ہلاک
کولومبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:یسرائیل کاتز
گولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے:ترکیہ
آسٹریلیا: بونڈی بیچ دعوے میں 800 سے زائد گواہوں کے بیانات جمع کر لئے گئے
زمبابوے میں مسافر فیری کے الٹنے سے کم  از کم 15 افراد ہلاک