فرانس اور اسپین کے جنگلات میں شدید آگ جاری ہے جبکہ فرانس کے جنوب مغربی حصے میں متوقع شدید گرمی کی ایک اور لہر صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
دونوں ممالک کی تاریخ کی بدترین جنگلاتی آگ میں سے کچھ فرانس کے جنوب مغرب اور اسپین میں میڈرڈ کے قریبی وسطی علاقوں میں بدستور قہر برپا کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے 3 لاکھ 25 ہزار سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اس ہنگامی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے بحرانی کمیٹی کا اجلاس بلا رہے ہیں۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز ملک کے مشرقی علاقے ویلنسیا میں آگ سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں؛ جہاں فائر فائٹرز کی ایک نئی آگ کے خلاف جنگ کے دوران شہر کے 15 ہزار لوگوں کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے۔
ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ منگل سے فرانس کو گرمی کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
اسپین کے بادشاہ فلپ ششم نے کہا ہے کہ جنگلاتی آگ نے اسپین کے قدرتی ورثے کو "ناقابلِ تلافی" نقصان پہنچایا ہے۔
میڈرڈ کے علاقے، آویلا ، تولیدو اور ویلنسیا سے لگ بھگ 75 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔



















