محصور علاقے میں سرکاری میڈیا آفس نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کی نسل کشی کے آغاز کے بعد سے غزہ میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد بڑھ کر 232 ہو گئی ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صحافی آدم ابو حربید کے قتل کے بعد غزہ کی پٹی میں نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد 232 تک پہنچ گئی ہے۔
متعدد میڈیا اداروں کے ساتھ کام کرنے والے فوٹو جرنلسٹ ابو حربید غزہ شہر میں اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
طبی ذرائع کے مطابق وہ تین رشتہ داروں کے ہمراہ اس وقت ہلاک ہوئے جب ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے الیرموک مارکیٹ کے قریب ایک خیمے کو نشانہ بنایا۔
اس حملے میں ان کی اہلیہ اور بچے بھی زخمی ہوئے ہیں۔
میڈیا آفس نے اسرائیل کی جانب سے صحافیوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کی مذمت کی اور بین الاقوامی اور علاقائی میڈیا اداروں سے آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اسرائیلی قبضے، امریکی انتظامیہ اور نسل کشی میں ملوث ممالک جیسے برطانیہ، جرمنی اور فرانس کو ان گھناؤنے اور سفاکانہ جرائم کا مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
غزہ میں اسرائیل کے قتل عام میں اب تک 59 ہزار 500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔
اس حملے نے محصور علاقےکے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے، اس کا صحت کا نظام تباہ کر دیا ہے، اور بڑے پیمانے پر قحط پیدا کر دیا ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نومبر میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یواو گیلنٹ کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔
اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف میں نسل کشی کے مقدمے کا بھی سامنا ہے۔











