چین نے لینڈنگ کرنے والے راکٹ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین نے بدھ کے روز پہلی مرتبہ ایک دوبارہ قابلِ استعمال راکٹ کے پہلے مرحلے میں خشکی سے خشکی پر لینڈنگ کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ اپنی نوعیت کی پہلی کامیاب کوشش ہے۔
66.1 میٹر لمبے 'ژوچو-3 وائے 2 'راکٹ کو ملک کے شمال مغرب میں واقع ڈونگ فینگ کمرشل اسپیس انوویشن پائلٹ زون سے لانچ کیا گیا۔
راکٹ نے نو انجنوں پر مشتمل پہلے مرحلے، یعنی بوسٹر مرحلے، میں پرواز کی اور لانچ پیڈ سے 390 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع گانسو صوبے کے ایک مخصوص لینڈنگ مقام پر واپس اُتر گیا۔
مقررہ مقام پر بحفاظت لینڈنگ کے ساتھ راکٹ کی زمین سے زمین پرمحفوظ لانچنگ اور لینڈنگ کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔ دوسرے مرحلے نے اپنے ساتھ لگے' ہونگ ہو-03' سیٹلائٹ کو پہلے سے طے شدہ مدار میں پہنچا دیا۔
یہ مشن چین کی دوبارہ قابلِ استعمال راکٹ ٹیکنالوجی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کامیابی 10 جولائی کو لانگ مارچ-10B کے پہلے مرحلے کو سمندر میں ایک جال کے ذریعے بچائے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔
چینی کمرشل خلائی کمپنی 'لینڈ اسپیس'کا تیار کردہ 'ژوچو-3' چین کی قومی خلائی انتظامیہ کی جانب سے نئی نسل کے مائع آکسیجن اور میتھین سے چلنے والے راکٹ کے طور پر منظور شدہ ہے۔ اس راکٹ کا مقصد کم لاگت، زیادہ گنجائش اور زیادہ تعداد میں لانچنگ کو ممکن بنانا ہے۔
ژوچو-3 سٹین لیس اسٹیل سے تیار کیا گیا ہے اور زیادہ حرارت برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے استعمال سے پیداواری لاگت کم ہونے کا امکان ہے۔ یک طرفہ پرواز میں یہ نِچلے زمینی مدارتک 14.2 میٹرک ٹن وزن لے جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ چین نے پہلی مرتبہ ایک مداری راکٹ کے پہلے مرحلے کو دوبارہ استعمال کے لیے لینڈنگ کروائی تھی تاہم یہ لینڈنگ سمندر میں کی گئی تھی۔ اس کامیابی کے ساتھ چین دوبارہ قابل استعمال راکٹ ٹیکنالوجی کے مالک ممالک میں شامل ہو گیا ہے۔
اس شعبے میں امریکہ پہلے ہی نمایاں مقام رکھتا ہے۔اس ٹیکنالوجی کو سب سے پہلے امریکی کمپنی اسپیس ایکس نے اپنے فالکن 9 راکٹ کے ذریعے عملی شکل دی اور بعد ازاں مزید ترقی دی ہے۔














