سیاست
3 منٹ پڑھنے
ایران یورینیم افزودگی جاری رکھے گا: خامنہ ای
ایران یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا، امریکہ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا: خامنہ ای
ایران یورینیم افزودگی جاری رکھے گا: خامنہ ای
Khamenei says national independence means “not waiting for a green or red light from the US”. / Photo: Reuters / Reuters

ایران کے روحانی لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی مطالبات کو مسترد کیا اور  کہا ہے کہ جوہری افزودگی، ایران کے جوہری پروگرام کا مرکزی حصہ ہے۔

بدھ کے روز تہران میں اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی روح اللہ خمینی کی 36ویں برسی کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے کچھ نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے کہا  ہےکہ واشنگٹن کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ایران اپنی جوہری صنعت کو مکمل طور پر ترک کر دے اور توانائی کی ضروریات کے لیے امریکہ پر انحصار کرے۔امریکہ کی بے بنیاد باتوں کا ہمارے پاس دوٹوک  جواب ہے اور یہ کہ " وہ اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتے"۔

خامنہ ای نے  یورینیم افزودگی کو مکمل طور پر روکنے سے متعلق  امریکی مطالبات کو بھی مسترد کر دیا ہے۔

گذشتہ مہینے سے تاحال تہران اور واشنگٹن کے درمیان عمان اور روم میں بالواسطہ جوہری مذاکرات  کے 5 ادوار کا انعقاد ہو چکا  ہے۔ مذاکرات ، عمان کے زیرِ  ثالثی ہوئے اور  دونوں فریقین نے کسی قدر  پیش رفت کا اعتراف کیا ہے۔لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

مذاکرات کو پیچیدہ بنانے والی ایک وجہ امریکہ کا یہ اصرار ہے کہ ایران اپنا یورینیم افزودگی پروگرام ختم کرے، جسے ایران کے وزیر خارجہ اور چیف مذاکرہ کار' عباس عراقچی' سمیت اعلیٰ ایرانی حکام نے "ناقابلِ قبول"  قرار دیا ہے۔

'بنیادی صنعت'

منگل کے روز امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایران کی یورینیم افزودگی سے متعلق  اپنے موقف کو دہرایا ہے۔

انہوں نے لکھا ہے کہ"آٹوپین کو ایران کو افزودگی سے بہت پہلے روک دینا چاہیے تھا۔ ایران کے ساتھ  ممکنہ معاہدے کے تحت   ہم یورینیم کی کسی بھی افزودگی کی اجازت نہیں دیں گے"۔

ان کے یہ بیانات عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے اس بیان سے چند دن بعد سامنے آئے ہیں  جس میں انہوں نے تاحال خفیہ "امریکی تجویز کے عناصر" کا ذکر کیا تھا جس کا مقصد جوہری معاہدے کو نتیجے تک پہنچانا تھا ۔

میڈیا رپورٹوں  کے مطابق، اس تجویز میں ایران کو ایک مخصوص دورانیے میں اور اپنی زمین پر"محدود سطح پر  یورینیم افزودہ کرنے" کی اجازت دی جا سکتی ہے ۔

خامنہ ای نے ایک مضبوط لہجے میں کہا  ہےکہ قومی خودمختاری کا مطلب ہے کہ "امریکہ کی طرف سے سبز یا سرخ بتّی کا انتظار نہ کیا جائے"۔

انہوں نے ایران کی جوہری صنعت کو ایک "بنیادی صنعت"  قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایرانی سائنسدانوں کی کوششوں کی بدولت ملک نے مکمل جوہری ایندھن  سائیکل قائم کیا ہے۔

خامنہ ای نے ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کی اپیل کی اور اسے "قومی خودمختاری کا ایک اور ستون" قرار دیا ہے۔

دریافت کیجیے
ترکیہ اور 7 دیگر ممالک کی طرف سے اسرائیل کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی منصوبوں کی مذمت
ہم پر پابندیاں لگانے سے امریکہ کو زیادہ نقصان ہوگا:ایران
امریکی وفد کی روسی صدر سے ملاقات
اسرائیل کی جنوبی شام پر بمباری
یمنی فوج کا شمالی الجوف میں حوثی فوجی کیمپ پر حملہ
آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد انڈونیشیا کے مرکزی ہوائی اڈے کا آپریشن بند کر دیا گیا
ایران:امریکی حملوں کی مذمت،جوابی کاروائی کی دھمکی
یوکرین: ہم اگلے ہفتے اپنے آپریشن کو صورتحال کے مطابق ڈھال کر روسی ہوائی حدود میں دوبارہ کریں گے
طوفان ساودل چین میں ہلاکت خیز لرزشِ اراضی کا موجب بنا
ترکیہ امریکہ-ایران جنگ  کے خاتمے کے لیے سرگرداں ہے، صدر ایردوان
بولیویا کی فوجی چھاونی میں دھماکے  میں 10 سے زیادہ افراد ہلاک
گِرنے کے قریب ڈوبنے والی فیری بوٹ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12ہو گئی
ووکس ویگن نے دنیا بھر میں مزید 50,000 ملازمتیں ختم کر دیں
یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان تصادم میں درجنوں افراد ہلاک
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا