غّزہ جنگ
2 منٹ پڑھنے
سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حمایت ایک سال کی کم ترین سطح پر
لزار ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے روزنامہ  معاریو کے لیے  کیے گئے  اس سروے کے مطابق  اگر آج انتخابات ہوتے تو لیکود 22 نشستیں جیتتی۔
سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حمایت ایک سال کی کم ترین سطح پر
[فائل] سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکوڈ 22 نشستیں حاصل کرے گی، جو گزشتہ جائزے سے تین کم اور اگست 2025 کے بعد سے اس کی سب سے کمزور ترین کارکردگی ہے۔ (اے ایف پی)

ایک تازہ   پبلک سروے کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی مقبولیت تقریبااًیک سال میں اپنی کم ترین سطح تک  گر گئی ہے، جبکہ ملک کی قیادت کے لیے دو نمایاں حریفوں نے اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔

لزار ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے روزنامہ  معاریو کے لیے  کیے گئے  اس سروے کے مطابق  اگر آج انتخابات ہوتے تو لیکود 22 نشستیں جیتتی، جو پچھلے سروے کے مقابلے میں تین نشستوں کی کمی ہے اور اگست 2025 کے بعد اس کا سب سے کمزور نتیجہ ہے۔

یہ کمی کٹر آرتھوڈوکس یہودیوں کی فوجی خدمات سے چھوٹ کے حوالے سے سیاسی تنازعات اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے بعد نتن یاہو کے سیاسی مستقبل کے بارے میں دوبارہ اٹھنے والی قیاس آرائیوں کے درمیان سامنے آئی ہے۔

قیادت  کی دوڑ میں حریف نتن یاہو سے آگے

سروے میں سابق فوجی کمانڈر گادی ایشنکوٹ کے لیے حمایت میں اضافہ ظاہر ہوا، جن کی یاشر پارٹی 20 نشستوں تک پہنچی، جبکہ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی توگیدر پارٹی 21 نشستوں تک گرنے کے باوجود ایک بڑی  طاقت کے طور پر برقرار ہے۔

وزارتِ عظٰمی کے عہدے کے مقابلے میں  مخالفین نے نتن یاہو پر برتری حاصل کی۔

لیکود کی کمزوری کے باوجود، سروے یہ اشارہ دیتا ہے کہ اسرائیل سیاسی جمود میں الجھا ہوا ہے۔ نتن یاہو سے منسلک جماعتیں 50 نشستیں حاصل کریں گی، جو پارلیمانی اکثریت کے لیے مطلوبہ 61 نشستوں سے کم ہیں، جبکہ یہودی اپوزیشن جماعتیں 60 نشستیں جیتیں گی اور عرب جماعتیں 10 نشستیں حاصل کریں گی۔

انتخابی منظر نامہ غیر واضح

موجودہ کنیسٹ اکتوبر میں اپنا دورِ کار مکمل کرنے کے شیڈول پر ہے، اور انتخابات ستمبر یا اکتوبر میں متوقع ہیں۔

اگرچہ سروے میں مجموعی طور پر اپوزیشن جماعتیں مضبوط دکھائی دیتی ہیں، زیادہ تر یہودی اپوزیشن دھڑوں نے اتحاد بنانے کے لیے عرب جماعتوں پر انحصار کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس سے اکثریتی حکومت کے قیام کا واضح راستہ باقی نہیں  بچتا۔

یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل کے سیاسی منظر نامے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے جب ملک ایک ممکنہ طور پر اہم انتخابی موسم کی جانب بڑھ رہا ہے۔