یوکرین کے علاقے 'وولین' کے گورنر 'رومان رومانیوک ' نے کہا ہے کہ وولن پر روسی ڈرون حملوں کے نتیجے میں 3 لاکھ 70 ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئےہیں۔
جمعرات کو جاری کردہ بیان میں رومان نے کہا ہےکہ روس نے، یوکرین کے پولینڈ کے ساتھ سرحدی علاقے 'وولین' پر ڈرون حملے کئے ہیں جن کے نتیجے میں 2 افراد زخمی ہو ئےاور 3 لاکھ 70 ہزار افراد بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ حملوں میں ، غیر ملکی سرمایہ کاری سے چلنے والے، ایک کاروباری ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
یوکرین پولیس کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ملک کے وسطی شہر اومان میں بھی ایک رہائشی عمارت پر ڈرون حملے کے نتیجے میں مزید پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
توانائی کی نجی کمپنی' ڈی ٹی ای کے' (DTEK) نے سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ روسی حملوں کے دوران کیف میں ہنگامی بنیادوں پر بجلی کی ترسیل روک دی گئی ہے۔
پولینڈ مسلح افواج نے بھی جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حملوں کے دوران فضائی حدود کی حفاظت کے لیے لڑاکا طیارے فضا میں بھیجے گئے تاہم فضائی حدود کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر نئے حملے
واضح رہے کہ کیف انتظامیہ نے 12 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے، توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر حملے بند کرنے کے موضوع پر روس۔یوکرین اتفاق کا، اعلان کئے جانے کے باوجودروس نے خارکیف میں ایک بجلی گھر کو نشانہ بنایا ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا تھا کہ یوکرین مجوزہ جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے تاہم انہیں ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ روس اس معاہدے کی پابندی کر رہا ہے۔ زیلنسکی نے واشنگٹن سے ، جنگ بندی تجویز پر عمل پر آمادہ کرنے کے لئے، روس پر دباو ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا۔
دوسری جانب کریملن نے کسی بھی معاہدے کی تصدیق کئے بغیر کہا تھا کہ فریقین کے درمیان رابطے جاری ہیں۔


















