ترکیہ
2 منٹ پڑھنے
پاکستانی وزیر اعظم انطالیہ سے صدر ایردوان کے لیے تعریفی الفاظ اور دوستی کے پیغامات کے ساتھ روانہ
میں خوبصورت شہر انطالیہ  سے رخصت  ہوتے وقت اپنے عزیز بھائی رجب طیب ایردوان کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میرا اور میرے وفد کا غیر معمولی گرمجوشی اور مہمان نوازی سے خیر مقدم کیا۔
پاکستانی وزیر اعظم انطالیہ سے صدر ایردوان  کے لیے تعریفی الفاظ اور دوستی کے پیغامات کے ساتھ روانہ
رجب طیب اردگان، الہام علییف اور شہباز شریف نے 17 اپریل 2026 کو انطالیہ، ترکیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔ / AA
13 گھنٹے قبل

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے صدر رجب طیب ایردوان کی اپنے دورے کے دوران 'غیر معمولی گرمجوشی' کے ساتھ استقبال کی تعریف کی اور کہا کہ وہ انطالیہ سے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کے ساتھ روانہ ہو رہے ہیں۔

شہباز شریف نے یہ بات انطالیہ  میں منعقدہ  ڈپلومیسی فورم میں شرکت کے بعد کہی۔

شہباز شریف نے  اپنی پوسٹ میں لکھا ہے  '' میں خوبصورت شہر انطالیہ  سے رخصت  ہوتے وقت اپنے عزیز بھائی رجب طیب ایردوان کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے میرا اور میرے وفد کا غیر معمولی گرمجوشی اور مہمان نوازی سے خیر مقدم کیا۔''

انہوں نے کہا کہ یہ دورہ ان کے لیے 'خوشگوار یادیں' چھوڑ گیا اور اسلام آباد کے عزم کو مزید مضبوط کیا کہ یہ  پاکستان اور ترکیہ کے درمیان 'بھائی چارے کے دیرپا بندھن' کو وسیع کرے گا۔

اسٹریٹجک شراکت داری پر توجہ

شہباز شریف نے کہا کہ دونوں ممالک علاقے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

ترکیہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات سیاسی یکجہتی، ثقافتی ہم آہنگی اور بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کے تعاون سے مضبوط ہیں۔

حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا زور تجارت، دفاعی تعاون اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کو فروغ دینے پر رہا ہے، جو تعلقات کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک گہرائی کی عکاسی کرتا ہے۔

انطالیہ: سفارتکاری  کا مرکز

اس سال کا فورم، جو ایردوان کی سرپرستی میں اور ترکی کی وزارتِ خارجہ کی میزبانی میں منعقد ہوا، جس کا مرکزی خیال  ' مستقبل کا تعین غیر یقینی صورتحال ک سے نمٹنا' ہے۔

اس اجلاس نے عالمی رہنما اور سینئر حکام  کو یکجا کیا تاکہ بڑھتی ہوئی علاقائی اور عالمی کشیدگی کے تناظر میں بڑے جیوپولیٹیکل چیلنجز اور سفارتی حل پر بات ہو سکے۔

شہباز شریف کی شرکت نے انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان قریبی ہم آہنگی کو اجاگر کرتے ہوئے زور دیا کہ دونوں ممالک مضبوط علاقائی شراکت داری اور بڑا سفارتی کردار حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔