دنیا
2 منٹ پڑھنے
یورپی یونین: مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کا درجہ"ناقابلِ قبول" ہے
مزید حملوں کو روکنے اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے "فوری اور مؤثر کارروائی" کی جائے۔ ایسی کاروائیوں کو سزا  سے بَری رکھنا تشدد کو بھڑکا سکتا ہے: یورپی یونین
یورپی یونین: مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کا درجہ"ناقابلِ قبول" ہے
مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کا تشدد غزہ میں جنگ کے آغاز سے شدت اختیار کر گیا ہے۔ / Reuters
11 مارچ 2026

یورپی یونین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کے درجےکو"ناقابلِ قبول"  قرار دیا اور فلسطینی شہریوں پر اضافی حملوں کے سدّباب کے لیے  اسرائیلی حکام سے  فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

یورپی یونین کے ایک ترجمان نے  کل بروز منگل جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ 28 فروری سے غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کے نتیجے میں چھ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

بیان کے مطابق اس تشدد نے متعدد برادریوں کو متاثر کیا، املاک کو نقصان پہنچایا، روزگار کے ذرائع ختم کر دیئے  اور مکینوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے۔  یورپی یونین نے اسرائیلی حکام پر زور دیا  ہےکہ مزید حملوں کو روکنے اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے "فوری اور مؤثر کارروائی" کی جائے۔ ایسی کاروائیوں کو  سزا  سے بَری رکھنا  تشدد کو بھڑکا سکتا ہے۔

یورپی یونین  نے اسرائیل سے  بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے اور مقبوضہ علاقے میں فلسطینی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی تشدد

8 اکتوبر 2023 کو غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی تشدد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ علاقے میں اسرائیلی فوج اور غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حملے فلسطینیوں کے قتل  ، غیر قانونی گرفتاریوں ، املاک کی تباہی،  گھروں کے انہدام ، جبری ہجرت  اور غیر قانونی رہائشی  بستیوں کی توسیع پر منتج ہو  رہے ہیں۔

 حملوں کے دوران  کم از کم 1,121 فلسطینیوں کو قتل اور 11,700 کو زخمی  کیا جا چُکا ہے۔ علاوہ ازیں   تقریباً 22,000 فلسطینیوں کو  گرفتار بھی کیا جا چُکا ہے۔

فلسطینیوں نے  خبردار کیا ہے کہ یہ خلاف ورزیاں اسرائیل  کی طرف سے مقبوضہ مغربی کنارے کےباضابطہ  الحاق کی راہ  ہموار کر سکتی ہیں۔ الحاق کی صورت میں  اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مجوزہ فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات  عملاً ختم  ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی برادری اور اقوامِ متحدہ، بشمول مشرقی القدس مغربی کنارے  کو مقبوضہ فلسطینی علاقہ سمجھتے ہیں اور یہاں موجود اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیرقانونی تصور کرتے ہیں۔

دریافت کیجیے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے
ٹرمپ: امریکی فوجیں علاقے میں موجود رہیں گی
پاکستان: ہم، لبنان میں اسرائیلی 'جارحیت' کی سخت مذّمت کرتے ہیں
شمالی کوریا نے کلسٹر مونیشن وارہیڈ بیلسٹک میزائل کاتجربہ کر ڈالا
لبنان پر حملوں کا جواب،حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ برسا دیئے
امریکہ-ایران جنگ بندی کا اعلان،اسرائیل کی حمایت
لبنان پر اسرائیلی حملے، 4 افراد ہلاک
فائر بندی کی حمایت نیتن یاہو کی 'سیاسی ناکامی' ہے: لاپڈ
تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی، عالمی اسٹاک میں زبردست اضافہ
ایران: امریکہ نے 10 نکاتی امن تجویز کو 'اصولی طور پر' قبول کر لیا ہے
پاکستان: امریکہ اور ایران فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں
امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی بھیڑ کو سنبھالنے میں مدد کرے گا: ٹرمپ