غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 13 یہودی بستیوں کو قانونی بنانے کی منظوری دے دی
آبادکاری چوکیوں کو الگ کرنے اور قانونی حیثیت دینے کے منصوبے کی منظوری ، یہودیہ اور سامریہ میں حقیقی خودمختاری کی طرف اٹھایا گیاایک اور اہم قدم ہے : سموترچ
00:00
اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 13 یہودی بستیوں کو قانونی  بنانے کی منظوری دے دی
FILE PHOTO: Israeli Finance Minister Bezalel Smotrich in Petah Tikva, Israel / Reuters

اسرائیل کے انتہائی متعصب وزیرِ خزانہ بزلیل سموٹرچ  نے کہا ہے کہ" اسرائیل  سیکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 13 آبادکاری چوکیوں کو الگ کرنے اور قانونی حیثیت دینے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ"ہم یہودی بستیوں میں معمول کے حالات اور نظم و نسق کے قیام کی تحریک کی قیادت کرتے رہیں گے۔ہم چھپنے یا معافی مانگنے کی بجائے اپنا جھنڈا بلند کر رہے اور بستیاں تعمیر کر رہے ہیں"۔

سموترچ نے کہا ہے کہ 13 آبادکاری چوکیوں کو الگ کرنے اور قانونی حیثیت دینے کے منصوبے کی منظوری ، یہودیہ اور سامریہ (مغربی کنارہ) میں حقیقی خودمختاری کی طرف ایک اور اہم قدم ہے"۔

آبادکاری چوکیوں کو الگ کرنے کا فیصلہ ہفتہ کی رات کابینہ کے اجلاس کے دوران کیا گیا ہے۔

فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے اسرائیلی اقدام کی مذمت کی اور اسے "فتنہ مسلط کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا ہے"۔

حماس نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "سموترچ کے بیانات  اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ آبادکاریاں، اپنی تمام شکلوں میں، ایک نسل پرستانہ نوآبادیاتی منصوبہ ہیں جس کا مقصد ہمارے لوگوں کو بے گھر کرنا، ان کی زمین اور مقدس مقامات کو چرانا، اور ایک نفرت انگیز نسل پرستی کا نظام نافذ کرنا ہے۔ اور یہ کاروائی تمام بین الاقوامی اور انسانی قوانین اور معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہے" ۔

حماس نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا  ہےکہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی غیر قانونی آبادکاری کی توسیع کو روکنے کے لیے کارروائی کرے۔

770,000 غیر قانونی اسرائیلی آبادکار

فلسطینی رپورٹوں کے مطابق، 2024 کے آخر تک تقریباً 770,000 غیر قانونی اسرائیلی آبادکار مقبوضہ علاقے میں 180 بستیوں اور 256 چوکیوں میں رہ رہے تھے۔

اقوام متحدہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تمام اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیتی اور خبردار کرتی ہے کہ مسلسل توسیع دو ریاستی حل کی کوششوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدگی عروج پر ہےاور فلسطینی وزارت صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 کو غزہ پر حملے کے آغاز سے اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آبادکاروں کے حملوں میں کم از کم 937 فلسطینی شہید اور 7,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

جولائی میں، بین الاقوامی عدالت انصاف نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے طویل عرصے سے جاری قبضے کو غیر قانونی قرار دیا اور مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں تمام بستیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا تھا۔

دریافت کیجیے
نتن یاہو کی آخری مزاحمت: مقدمات، جنگ اور بقاء کی جدوجہد
اسرائیل کے غزہ پر حملوں میں تباہ شدہ مکانات کے ملبے تلے سے 233 فلسطینی شہریوں کی لاشیں بازیاب
غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں کے حملوں میں 63 فیصد اضافہ
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
فلسطین: عالمی کمپنیاں اسرائیل کے 'ای 1' منصوبے میں شرکت سے گریز کریں
اسرائیل نے تقریباً 650 مکانات پر مشتمل ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع دیا
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
اسرائیل نے غزہ بھر میں 2 بچوں سمیت کم از کم آٹھ فلسطینی قتل کر دیئے
مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد اور الحاق  کی'صورتحال' بتدریج ابتر ہو رہی ہے، اقوام متحدہ
غزہ میں ایک مسجد کو نشانہ بنا کر شہید کرنے کا اسرائیل کا اعتراف
یورپی یونین کا نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی وارنٹ کے نفاذ کا مطالبہ
اسرائیلی تازہ حملوں میں غزہ میں مزید تین فلسطینی شہید
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں 'وسیع پیمانے پر' فوجی آپریشن کا حکم
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
پیس بورڈ نے غزہ میں انسانی امداد کے مراکز کا انتظام کرنے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کر دیا
اسرائیل نے دہشت گردی کا الزام لگا کر ایک خیراتی تنظیم کو بند کر دیا
اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ میں 8 فلسطینی ہلاک، درجنوں زخمی
اسرائیل عالمی رد عمل کے باعث غزہ سے جبری نقل مکانی کے منصوبے کو نئے سرے سے تشکیل دے رہا ہے