پاکستان
3 منٹ پڑھنے
پاک-ایران وزرائے خارجہ کا رابطہ،مذاکراتی بحالی پر غور
یہ گفتگو اسلام آباد کی ان جاری کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کو بحال کرنا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے طویل مدتی تنازع کا  بات چیت کے ذریعے حل نکالا جا سکے
پاک-ایران وزرائے خارجہ کا رابطہ،مذاکراتی بحالی پر غور
پاک-ایران / AA

ایک سرکاری بیان کے مطابق، پاکستان کے اعلیٰ سفارت کار اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

 یہ گفتگو اسلام آباد کی ان جاری کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کو بحال کرنا ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کے طویل مدتی تنازع کا  بات چیت کے ذریعے حل نکالا جا سکے۔

اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس گفتگو کا محور "علاقائی صورتحال اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی جاری سفارتی کوششیں" تھیں۔

جواب میں عباس عراقچی نے پاکستان کے "تعمیری" کردار اور دونوں فریقین کے درمیان ثالثی کی "مخلصانہ" کوششوں کی تعریف کی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اسحاق ڈار نے تعمیری روابط کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی مسائل کے پرامن حل اور خطے  اور  اس سے باہر پائیدار امن و استحکام کے حصول کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

یہ تازہ ترین رابطہ اس وقت ہوا ہے جب چند گھنٹے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ تہران جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی ترمیم شدہ 14 نکاتی تجویز پر امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ ایٹمی مسئلہ اس کی حالیہ تجویز کا حصہ نہیں تھا، بلکہ اس نے مشورہ دیا تھا کہ اس پیچیدہ مسئلے پر دونوں فریقین کے درمیان مستقل جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں بحث کی جائے۔

ثالثی کے عمل سے واقف پاکستانی ذرائع نے اناطولیہ ایجنسی کو بتایا کہ امریکہ نے اسلام آباد کے ذریعے ایران کو بھیجے گئے اپنے جواب میں ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق معاہدے کو مستقل جنگ بندی کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، ایران کی ترمیم شدہ تجویز میں مشورہ دیا گیا تھا کہ موجودہ جنگ بندی کو مستقل جنگ کے خاتمے میں تبدیل کیا جائے اور ایٹمی مسئلے کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کر دیا جائے۔

پاکستان نے 11-12 اپریل کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور کی میزبانی کی تھی، تاہم اس وقت جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ طے نہیں پا سکا تھا۔

یہ مذاکرات 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کے بعد ہوئے تھے جس کی بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توسیع کر دی تھی۔

 

 

دریافت کیجیے
سعودی عرب،16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
نگاساکی ایٹم بم کی 81 ویں برسی
بد امنی کی وجہ غیر ملکی افواج کی خطے میں موجودگی ہے:ایران
ایران نے ہرمز کھولنے کے لیے چھ مطالبات  کر دیئے
"مکہ معاہدہ" کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانے کےلیے نہیں ہے:فیدان
وزارت خارجہ کے یونان کے سیاحتی خصوصی فریم ورک پر تبصرے
پاکستانی وزیر اعظم: مجھے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پانے پر فخر ہے
روسی حملوں میں ایک بچہ سمیت تین افراد ہلاک، متعدد زخمی
سربراہ فوج کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں
تھائی لینڈ میں ایک نوجوان نے اپنے دادا دادی کو قتل کرنے کے بعد اسکول میں دھاوا بول دیا
روس کے وائلڈبیریز ہب پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
یونیسف: غزہ میں فائر بندی کے بعد سے 300 بچوں قتل کئے جا چُکے ہیں
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے