دنیا
3 منٹ پڑھنے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع مستقفی ہو گئے، حکومتی بجٹ پر 7 کروڑ یورو کا بوجھ پڑ سکتا ہے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
[فائل] اسٹونیا کے وزیر دفاع ہانو پیوکور ولنیئس میں۔ / Reuters

ایستونیا کے وزیرِ دفاع ہانو پیوکور نے یوکرین کے لیے توپ خانہ گولہ بارود کی خریداری سے متعلق 7 کروڑ یورو (8 کروڑ 11 لاکھ ڈالر) کے معاہدے کے ترسیلی عمل میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث تحقیقات  شروع ہونے کے بعد استعفیٰ دے دیا ہے۔

پیوکور 2022 سے وزیرِ دفاع کے عہدے پر فائز تھے۔ انہوں نے 2 ستمبر کو سرکاری نشریاتی ادارے 'ای ٹی وی' پر اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے اس اسکینڈل کا بھی ذکر کیا ہے۔

پیوکور نے فیس بک سے جاری کردہ بیان  میں کہا ہے کہ ’’ایک رہنما میں اتنی طاقت اور حوصلہ ہونا چاہیے کہ وہ ذمہ داری قبول کر سکے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ہے کہ نیشنل آڈٹ آفس کی تحقیقات کے نتائج نے سیاسی ذمہ داری کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھا دیئے ہیں۔

نیشنل آڈٹ آفس نے 28 اگست کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں حالیہ برسوں کے دوران وزارتِ دفاع کی جانب سے کی جانے والی دفاعی خریداریوں پر تنقید کی اور خبردار کیا گیا ہے کہ ایستونیا کو حکومتی بجٹ پر 7 کروڑ یورو کی لاگت برداشت کرنا پڑ سکتی ہے۔

ایستونیا کے روزنامہ ایستی ایکسپریس کے مطابق، ایستونیا نے 2024 میں بھارتی کمپنی Neco Defense Munitions کی زیرِ ملکیت اور  اٹلی میں رجسٹرڈ کمپنی Datasel S.R.L. کے ساتھ گولہ بارود کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا۔

یوکرین کو توپ خانہ گولوں کی  فراہم کے زیرِ مقصد سے کیے گئے اس معاہدے کی مالی معاونت یورپی یونین کے یورپی امن فنڈ کے ذریعے کی گئی تھی۔

ایستونیا دفاعی سرمایہ کاری مرکز RKIK نے Datasel کو پیشگی ادائیگیاں کیں، تاہم سامان کی ترسیل بارہا مؤخر ہوتی رہی اور کئی ماہ تک گولہ بارود فراہم نہیں کیا گیا۔

ایستی ایکسپریس کے مطابق 2025 میں بالآخر ایک کھیپ اپنی منزل تک پہنچی، لیکن  گولہ بارود ناقص اور ’’ناقابلِ استعمال‘‘ تھا۔

اصل معاہدے کی نگرانی کرنے والے RKIK کے ڈائریکٹر جنرل ایلما ر واہر نے کہا ہے کہ اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے جانے چاہیے تھے، کیونکہ سپلائر کو اس سے پہلے توپ خانے کے گولے فروخت کرنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔

واضح رہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں کیا گیا جب یوکرینی افواج کو گولہ بارود کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ امریکی فوجی امداد میں تاخیر اور یورپی یونین کی جانب سے مارچ 2024 تک یوکرین کو 10 لاکھ گولے فراہم کرنے کا ہدف پورا نہ کر پانے کے باعث یہ صورتحال مزید سنگین ہوگئی تھی۔

ایستونیا کے وزیرِ اعظم کرسٹن میخال 3 ستمبر کو کابینہ کا  اجلاس بلائیں گے، جس میں پیوکور کے استعفے اور نیشنل آڈٹ آفس کی تحقیقات کے نتائج پر غور کیا جائے گا۔

دریافت کیجیے
سرگن یالچین قومی فٹبال ٹیم کے کوچ بن گئے
ترکیہ -لیبیا معاہدہ،ترک دفتر خارجہ کا خیر مقدم
ایران: "ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا"
مسک نے یوکرینی فوج کے زیرِ استعمال اسٹارلنک سروس کی رفتار محدود کر دی
امریکہ: ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں۔
ترک وزیر دفاع قطر روانہ، دفاعی صنعتی معاہدے پر دستخط کریں گے
ایرانی پاسدارانِ انقلاب:" آبنائے ہرمز میں ایک امریکی MQ-9 ڈرون کو گرا دیا گیا ہے"
امریکہ: جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا
کولومبیا:سونے کی کان پر تودہ گر گیا،14 افراد ہلاک متعدد زخمی
پوٹن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ
ہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو
سوڈان: بس اسٹاپ پر ڈرون حملہ، 80 افراد ہلاک
یورپ کی بد امنی میں روس کا ہاتھ،کریملن نے مضحکہ خیز قرار دے دیا
یمنی میڈیا: حوثیوں کے یمن میں فوج تربیتیی کیمپ پر حملے میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے
یورپی سفارت کاروں پر حملے،یورپی یونین اور کینیڈا کی مذمت