اسرائیل نے محصور غزہ کے مختلف علاقوں پر حملوں کے دوران تین فلسطینیوں کو قتل اور متعدد کو زخمی کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک چوتھے فلسطینی کی موت اسرائیل کے ایک سابقہ حملے میں لگنے والے زخموں کے باعث ہوئی ہے۔
العودہ اسپتال کے مطابق، وسطی غزہ میں نصیرات پناہ گزین کیمپ کے مغرب میں واقع النوَیری پہاڑی کے قریب بے گھر خاندانوں کے خیمے پر اسرائیلی ڈرون حملے میں 28 سالہ صائب ابو معلیٰ شہید ہو گیا اور کئی فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔
طبی اور مقامی ذرائع کے مطابق دن کے اوّلین اوقات میں خان یونس کے مغرب میں المواصی کے علاقے بیر 19 میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں 59 سالہ مفید عبد الحمید ابو العنین شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق دیر البلح کے مشرق میں اسرائیلی ڈرون نےشہریوں کے ایک گروہ پر دھماکہ خیز مواد گرایا جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی درمیانے درجے کا زخمی ہوگیا ہے۔ رفح کے علاقے المواصی میں مسجد معاویہ کے قریب ایک الگ ٹینک گولہ باری میں ایک اور شخص زخمی ہو گیا ہے۔
شمالی غزہ کے ذرائع نے بتایا ہےکہ جبالیہ پناہ گزین کیمپ کے مغرب میں الفالوجہ محلے میں اسرائیلی ڈرون حملے میں زخمی ہونے والے محمد ابو اشقیان شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے ہیں۔
ادھر الشفاء اسپتال نے اعلان کیا ہے کہ 34 سالہ عبداللہ احمد حسن، جو اسرائیل کے ایک سابقہ حملے میں زخمی ہونے کے بعد زیرِ علاج تھے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئےانتقال کر گئے ہیں۔
دراندازی اور بلڈوزروں کے ذریعے تباہی
عینی شاہدین نے انادولو ایجنسی کو بتایا ہےکہ اسرائیلی فوجی گاڑیاں ایک بلڈوزر کے ہمراہ علی الصبح غزہ شہر کے جنوب مشرقی علاقے الزیتون میں تقریباً 150 میٹر اندر تک داخل ہو گئیں۔
یہ دراندازی شدید فائرنگ، توپ خانے کی گولہ باری اور بلڈوزروں کے ذریعے وسیع پیمانے پر انہدام کے ساتھ کی گئی۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق علاقے میں رات بھر زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔
مقامی ذرائع نے مزید کہا ہےکہ اسرائیلی فوجوں نے نام نہاد "زرد لائن" کی نشاندہی کرنے والی کنکریٹ رکاوٹیں ہٹانے کے بعد صلاح الدین شاہراہ کے ساتھ واقع دولہ چوک کی جانب پیش قدمی کرکےاپنی موجودگی کو مزید وسعت دے دی ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فوج 10 اکتوبر 2025 سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی مسلسل شکل میں جاری رکھے ہوئے ہے اور غزہ پر روزانہ حملے کر رہی ہے۔ ان حملوں میں 1,180 فلسطینی شہید اور 3,810 زخمی ہوگئے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل اکتوبر 2023 سے غزّہ پر مسّلط کردہ نسل کُشی میں، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل، 73 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر چُکا ہے۔
ان حملوں نے محصور غزہ کے بیشتر حصے کو کھنڈر میں تبدیل کر دیا اور تقریباً پوری آبادی کو بے گھر ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔



















