دنیا
3 منٹ پڑھنے
آئی اوسی کا اسرائیل کے 'عملی الحاق' منصوبوں سے متعلق ہنگامی اجلاس
شرکائے اجلاس نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے جواب میں یکساں موقف اور مربوط اقدامات اپنانے کے لیے ممکنہ اقدامات اور حکمتِ عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔
آئی اوسی کا اسرائیل کے 'عملی الحاق' منصوبوں سے متعلق ہنگامی اجلاس
اسرائیل کی سلامتی کابینہ نے ایسے فیصلے منظور کیے ہیں جو مغربی کنارے میں موجودہ صورتحال کو غیر قانونی آباد کاروں کے حق میں بدل دیں گے۔ / Reuters
13 گھنٹے قبل

اسلامی  تعاون تنظیم (OIC) نے اسرائیل کی حالیہ منظوری کے حوالے سے جمعرات کو وزرائے خارجہ کی سطح پر ہنگامی اجلاس طلب کیا ۔

اس منظوری میں مقبوضہ مغربی کنارے کے بڑے حصوں کو 'ریاستی جائیداد' قرار دینے کا منصوبہ شامل ہے جسے ناقدین عملی طور پر الحاق قرار دیتے ہیں، اجلاس میں فلسطینی علاقوں میں اس کی جاری خلاف ورزیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایک بیان میں OIC نے کہا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس تنظیم کے ہیڈکوارٹر جدہ، سعودی عرب میں منعقد ہوا اور یہ اجلاس اسرائیل کی الحاقی کوششوں کے جواب میں اعلیٰ سطح کی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ تھا۔

اجلاس میں رکن ممالک کے متعدد وزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ سفیران اور سفارتی وفود بھی شریک ہوئے۔

شرکائے اجلاس نے اسرائیلی خلاف ورزیوں کے جواب میں یکساں موقف اور مربوط اقدامات اپنانے کے لیے ممکنہ اقدامات اور حکمتِ عملیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

بیان میں زور دیا گیا کہ اس اجلاس کا مقصد بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنا ہے تاکہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا دفاع کیا جا سکے، علاوہ ازیں ، علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کی جانےو الی اسرائیلی  کارروائیوں  پر خدشات کو زیر لب لایا گیا۔

اجلاس کے دوران سعودی نائب وزیرِ خارجہ ولید الخریجی نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے اقدامات کو اپنی حکومت کی طرف سے مسترد کرنے کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

الخریجی نے کہا کہ فلسطینی علاقوں کے برخلاف اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ مغربی کنارے پر بقولِ خود حاکمیت قائم کرنے کے اقدامات بھی امن کے مواقع کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب مغربی کنارے میں تمام (غیرقانونی) بستیوں کے اقدام کی مذمت اور تردید کرتا ہے۔

فلسطینیوں کے مفاد کے خلاف، غیرقانونی آباد کاروں کے حق میں

اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے 8 فروری کو متعدد فیصلے منظور کیے جن کا مقصد مغربی کنارے کی صورتحال کو غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کے حق میں تبدیل کرنا اور فلسطینیوں کو نقصان پہنچانا  تھا۔

ان اقدامات میں غیرقانونی آبادکاروں کو براہِ راست زمین خریدنے سے روکے جانے والی رکاوٹوں کو ختم کرنا، مختلف حیلوں کے ساتھ فلسطینی انتظامیہ کے زیرِ اختیار علاقوں پر قبضہ  جمانے کے لیے اسرائیل کو اختیارات دینا، اور فلسطینی شہر الخلیل میں مقامی انتظامی اختیارات سلب کر کے ایک اسرائیل سے منسلک 'متوازی  بلدیہ' قائم کرنا شامل تھے۔

15 فروری کو اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک یکطرفہ 'زمین کی رجسٹریشن کے عمل' کے آغاز کی بھی منظوری دی، جسے بین الاقوامی قانون کے تحت فلسطینی زمینوں کی ضبطی کو باضابطہ شکل دینے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے مطابق، مغربی کنارہ جو 1967 سے اسرائیل کے زیرِ قبضہ ہے، مستقبل کی ایک فلسطینی ریاست کے لیے مخصوص علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے اور وہاں اسرائیل کو ایک قابض قوت شمار کیا جاتا ہے۔

قابض قوت کی آبادی کا مقبوضہ علاقوں میں منتقل ہونا اور جائیداد کی ملکیت کے ڈھانچے میں تبدیلیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہیں۔

دریافت کیجیے