دنیا
2 منٹ پڑھنے
یونان نے مہاجرین کی بے دخلی کا قانون منظور کر لیا
مسترد شدہ پناہ گزینوں کی بے دخلی کو تیز کیا جائے گا اور تیسرے ممالک میں واقع  'واپسی مراکز' میں منتقل کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی
یونان نے مہاجرین کی بے دخلی کا قانون منظور کر لیا
ایتھنز میں 9 جون 2026 کو ملک بدری اور "واپسی کے مراکز" کے بل پر ووٹنگ سے قبل پارلیمنٹ کے باہر تارکینِ وطن کے حامی اور نسل پرستی کے مخالف گروہوں کا احتجاج۔ / Reuters

یونان نے مہاجرین کی بے دخلی کا قانون منظور کر لیا ہے۔

یونان کی پارلیمنٹ نے منگل کو رات دیر گئے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کی رُو سے مسترد شدہ پناہ گزینوں کی بے دخلی کو تیز کیا جائے گا اور تیسرے ممالک کے ساتھ دو طرفہ معاہدے طے پانے کے بعد انہیں یورپی یونین ممالک سے باہر واقع  'واپسی مراکز' میں منتقل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ یونان مہاجرین کے یورپ میں داخلے کے اہم راستوں میں سے ایک ہے اور 2015۔2016  کے بحران کے دوران مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے ایک ملین سے زائد افراد پر مشتمل نقل مکانی لہر کے یورپ میں داخلے کے حوالے سے سرفہرست رہا ہے۔

اس کے بعد اگرچہ نقل مکانی میں کمی آئی لیکن گزشتہ چند سالوں میں  افریقی ساحل سے نزدیک دو ایجیئن جزائر  کریٹ اور گاودوس  میں مہاجر کشتیوں میں تیزی سے اضافے کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے ۔ یہ کشتیاں زیادہ تر لیبیا سے ان کے ساحل تک پہنچ رہی ہیں۔

یورپی یونین کے قانون سازوں اور حکومتوں نے پچھلے ہفتے نئے قواعد پر اتفاق کیا ہے جن کے تحت جن مہاجرین کو جنہیں یورپی یونین  بلاک چھوڑنے کا حکم ملتا ہے انہیں تیسرے ممالک میں قائم مراکز میں بھیجا جا  سکے  گا۔ تاہم حقوقِ انسانی تنظیموں نے اس قانون پر سخت تنقید کی اور کہا ہے کہ اس سے زیادتیوں کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

افریقی ممالک کے ساتھ بات چیت میں

یونان نیدرلینڈز، ڈنمارک، جرمنی اور آسٹریا کے ساتھ مل کر مہاجرین کی اجتماعی واپسی اور ٹرانزٹ مراکز قائم کرنے پر کام کر رہا ہے، جبکہ یوگنڈا کے ساتھ اسی نوعیت کے انتظام پر دو طرفہ مذاکرات روک دئیے گئے ہیں۔

پارلیمنٹ میں منگل کی رائے شماری  سے قبل بات کرتے ہوئے یونان کے وزیر برائے امورِ مہاجرین ' تھانوس پلیورِس' نے کہا  ہےکہ یورپی ممالک 2027 سے  ٹرانزٹ مراکز کو فعال کرنے کی خاطر   تیسرے ممالک کے ساتھ معاہدوں کی بات چیت کر رہے ہیں ۔

پلیورِس نے بدھ کو نیم سرکاری ایتھنز نیوز ایجنسی کے لئے انٹرویو میں کہا ہے کہ  "یونانی حکومت پہلے ہی دو افریقی ممالک کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔"

انہوں نے ممالک کے نام ظاہر نہیں کئے۔

دریافت کیجیے
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
روسی گودام پر یوکرینی ڈرون حملے
جاپان امید کرتا ہے کہ فلسطین کے لیے حمایت میں اضافہ ہوگا
ترکیہ COP31 پروگرام میں رضاکار بننے کے لیے درخواستیں جاری
چین نے آبنائے تائیوان میں دو روزہ فوجی مشقیں شروع کر دیں
ایران: ہمارا دفاعی نظریہ بالکل واضح ہے، "آنکھ کے بدلے آنکھ"
اسرائیل نے تازہ خلاف ورزیوں میں چار فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے
امریکہ نے ایران پر حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا
نیٹو کا 'فرنٹ ڈور' منصوبہ ،ترک دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے کا ہدف
ترک خواتین اور مردوں کی ٹیمیں VNL فائنلز میں پہنچ گئیں
فرانس میں پھِیلتی جنگلاتی آگ،سینکڑوں افراد کا انخلا
حملے جاری رہے تو امریکہ اور اس کے عرب اتحادی بھی نہیں بچیں گے:ایران
یورپی یونین کے سفیر روس پر نئے پابندیوں کی تیاریوں میں
"الزامات بے بنیاد ہیں"عدالت میں اپنا مقدمہ چیلنج کروں گا: مادورو
امریکہ: ہم نے آج مسلسل گیارہویں رات بھی ایران پر فضائی حملے کئے ہیں