افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے کہا ہے کہ جمعرات سے اب تک 55 شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 69 تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے ایکس پر علیحدہ بیانات میں بتایا کہ کم از کم بارہ شہری مکانات تباہ ہو گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ زخمی اور ہلاکتیں پکتیکا، خوست، کنر، ننگرہار اور قندھار صوبوں میں رپورٹ ہوئی ہیں۔
دریں اثنا، پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ شہریوں کو ہدف نہیں بنایا گیا۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جمعرات سے لے کر اب تک فضائی حملوں اور جھڑپوں میں 415 افغان طالبان اور مشتبہ دہشت گرد ہلاک اور 580 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
کابل کی طرف سے سرحدی جھڑپوں میں 56 پاکستانی فوجیوں کے ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دونوں ہمسایوں کے درمیان کشیدگی جمعرات کے بعد سے بڑھ گئی ہے جب کابل نے فروری کے آخر میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد سرحد پر جوابی کارروائیاں شروع کیں۔
سرحد کے دونوں جانب سے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک 81 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان میں 12 پاکستانی فوجی اور ایک شہری شامل ہیں، جبکہ کابل کا کہنا ہے کہ اس کے 13 فوجی ہلاک ہو گئے اور جھڑپوں کے دوران 55 شہریوں کی جانیں گئیں اور ایک پاکستانی فوجی لاپتہ ہے۔
اسلام آباد اور کابل کے ہلاک ہونے کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق ممکن نہیں ہوئی۔

















