ایران کے شہر اصفہان پر رواں ہفتے کی گولہ باری میں شہر میں واقع روسی قونصل خانے کو نقصان پہنچا ہے۔
روس وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے سفارتی نمائندہ دفتر پر حملے کو بین الاقوامی سمجھوتے کی "کھُلی خلاف ورزی" قرار دیا اور تمام فریقین سے "سفارتی مقامات کی استثنائیت" کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے ۔
زاخارووا نے وزارت خارجہ کی ویب سائٹ سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "8 مارچ کو ایران کے شہر اصفہان میں روسی قونصل خانے کے قریب واقع اصفہان گورنر دفتر پر حملے کے نتیجے میں قونصل خانے کوبھی نقصان پہنچا ہے"۔
انہوں نے کہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں قونصل خانے کی دفتری عمارت اور رہائشی مکانات کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ دھماکے کی شدّت کے باعث بعض ملازمین زمین پر لڑھک گئےلیکن خوش قسمتی سے کسی کے ہلاک یا شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ واقعہ ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ کے آغاز کے بعد کشیدگی میں اضافے کے دوران پیش آیا ہے۔
کریملن سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق روس کے صدر ولادی میر پوتن نے بروز منگل ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ ملاقات میں بھی جاری جھڑپوں کے بارے میں بات چیت کی ہے۔
پوتن نے فوری طور پر حملے بند کئے جانے کی اپیل کی ہے۔










