غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل، فلسطینیوں کے خلاف 'اجتماعی انتقام' کے طور پر تشدد کا سہارا لے رہا ہے، اقوام متحدہ
7 اکتوبر کے بعد سے حراست میں رکھے گئے فلسطینیوں کو "انتہائی سفاکانہ جسمانی اور نفسیاتی بدسلوکی" کا سامنا رہا ہے۔
اسرائیل، فلسطینیوں کے خلاف 'اجتماعی انتقام' کے طور پر تشدد کا سہارا  لے رہا ہے، اقوام متحدہ
البانیز نے کہا کہ اسرائیل کا حراستی نظام "منظم اور وسیع پیمانے پر تذلیل، جبر اور خوف و ہراس کا روپ دھار چکا ہے۔" / AFP
13 گھنٹے قبل

میڈیا کے لیے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں اقوامِ متحدہ کی ایک ماہر نے کہا ہے کہ اسرائیل نے منظم انداز میں فلسطینیوں پر ایسی پیمانے پر تشدد کیا ہے جو "اجتماعی انتقام اور تباہ کن ارادے" کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی خصوصی رپورٹر برائے 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حقوق کی صورتحال فرانچسکا البانیز کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد سے حراست میں رکھے گئے فلسطینیوں کو "انتہائی سفاکانہ جسمانی اور نفسیاتی بدسلوکی" کا سامنا رہا ہے۔

ان کی نئی رپورٹ کے ساتھ شائع ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ البانیز "تمام فریقین، بشمول فلسطینی مسلح گروپوں، کی طرف سے کیے جانے والے تشدد اور دیگر بد سلوکی کی بے چون و چرا مذمت کرتی ہیں"، یہ رپورٹ "اسرائیلی موقف" پر مرتکز ہے۔

"تشدد اور نسل کشی" کے عنوان سے شائع شدہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ "7 اکتوبر کے بعد سے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی منظم پُر تشدد کارروائیوں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔"

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ "حراست میں تشدد کو اجتماعی انتقام کے طور پر بے مثال پیمانے پر استعمال کیا گیا ہے۔"

رپورٹ میں کہا گیا: "وحشیانہ مار پیٹ، جنسی تشدد، عصمت ریزی، جان لیوا بدسلوکی، بھوک رکھنا اور بنیادی انسانی ضروریات سے منظم محرومی نے عشراتِ ہزاروں فلسطینیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے جسموں اور ذہنوں پر گہرے اور مستقل زخم چھوڑے ہیں۔"

رپورٹ میں کہا گیا کہ "تشدد قید و بند میں بدسلوکی کے ذریعے اور جبراً بے دخلی، بڑے پیمانے پر قتل، محرومی اور زندگی کے تمام ذرائع کو تباہ کرنے کی ایک بےرحم مہم کے ذریعے مردوں، عورتوں اور بچوں کو اعصابی شکنی سے دو چار کرنے کا لازمی جزو بن چکا ہے تاکہ طویل المدت اجتماعی درد و کرب کو نقوش کیا جا سکے۔"

اسرائیل جبر اور دیگر ظالمانہ، غیر انسانی یا تحقیر آمیز سلوک یا سزا کے خلاف متعلقہ کنونشن کا فریق ہے۔

البانیز نے کہا کہ انہوں نے تحریری مداخلتیں جمع کی ہیں جن میں 300 سے زائد گواہوں کےبیانات شامل ہیں۔

'وسیع پیمانے پر ذلت'

البانیز نے کہا کہ اکتوبر 2023 سے مقبوضہ علاقوں میں فلسطینیوں کی گرفتاریوں میں "نمایاں طور پر اضافہ" ہوا ہے، 18,500 سے زائد قیدیوں میں کم از کم 1,500 بچے شامل ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ تقریباً 9,000 فلسطینی ابھی بھی حراست میں ہیں، جبکہ "4,000 سے زائد افراد جبری گمشدگی کے شکار ہوئے ہیں"۔

البانیز نے کہا کہ اسرائیل کا حراستی نظام "منظم اور وسیع پیمانے پر تذلیل، جبر اور دہشت کے ایک طرزِ حکمرانی میں تبدیل ہو چکا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو "فوری طور پر فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کے حصے کے طور پر تمام تشدد اور بدسلوکی کے اعمال بند کر دینے چاہئیں" اور تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ "فلسطین میں باقی ماندہ اقدار کی تباہی کو روکنے کے لیے اپنی طاقت کے مطابق ہر ممکن اقدام کریں" کیونکہ ہر تاخیر "ناقابلِ تلافی نقصان کو بدتر کرتی ہے اور  نظامِ ظلمکو مزید گہرا کرتی ہے"۔

البانیز نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر سے استدعا کی کہ وہ اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاتز، وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر اور وزیرِ خزانہ بزالل سموٹریک کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس کی درخواست کریں۔

البانیز اپنی رپورٹ پیر کو اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سامنے پیش کریں گی۔

 

دریافت کیجیے