امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ "میں، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دوبارہ منتخب ہونے کی مہم کے بارے میں، کوئی موقف اختیار نہیں کروں گا"۔
وینس نے خود کو واضح طور پر اسرائیل کی انتخابی سیاست سے دُور رکھتے ہوئے نیتن یاہو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کی مہم کے حوالے سے کوئی مؤقف اختیار کرنے سے گریز کا اظہار کیا ہے۔ ان کا یہ بیان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہفتے کے اختتام پر اسرائیلی انتخابات کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرنے سے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔
مارک ہالپرین کے ڈیجیٹل پروگرام 'ٹو وے ٹونائٹ' میں انٹرویو کے دوران وینس سے پوچھا گیا کہ آیا ٹرمپ کی کھلی حمایت کے بعد وہ بھی براہِ راست نیتن یاہو کی حمایت کرتے ہیں؟
وینس نے جواب دیا کہ ’’میں امریکی امیدواروں کی حمایت کرتا ہوں اور میری توجہ وسط مدتی انتخابات پر ہے، اس لیے میں اسرائیلی انتخابات میں مداخلت نہیں کر رہا۔‘‘
جب ان سے مزید سوال کیا گیا کہ آیا وہ دانستہ طور پر نیتن یاہو کی کھلی حمایت یا مخالفت سے گریز کر رہے ہیں تو وینس نے وضاحت کی کہ ان کا غیر جانب دارانہ مؤقف کسی دشمنی کا مظہرنہیں ہے۔
وینس نے مزید کہا ہے کہ ’’میں ان کے خلاف نہیں ہوں لیکن میں ان کی حمایت میں بھی کوئی مؤقف اختیار نہیں کر رہا۔ میں اسرائیلی انتخابات میں مداخلت نہیں کر رہا۔‘‘
وینس کا مؤقف وائٹ ہاؤس کے موقف سے مختلف ہے
نائب صدر کے یہ بیانات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مؤقف سے واضح طور پر مختلف ہیں جنہوں نے اتوار کے روز اسرائیل میں 27 اکتوبر کو متوقع پارلیمانی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی کھُل کر حمایت کی تھی۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم' ٹروتھ سوشل' پر ایک طویل پوسٹ میں دورانِ جنگ نیتان یاہو کی قیادت اور واشنگٹن کے ساتھ اس کی تزویراتی شراکت داری کی تعریف کی تھی۔ ٹرمپ نے بالخصوص ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں پر زور دیا اور خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیلی عوام نے انتخابات میں کسی دوسرے شخص کو وزیر اعظم منتخب کیا تو امریکہ کو خطے کی سلامتی کا بوجھ اکیلے اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

















