ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ: اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ عالمی امن کی ضمانت ہے
اسرائیلی حکومت کی  جارحانہ کارروائیوں کا خاتمہ نہ صرف فلسطینیوں کے امن و سکون کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی امن کی ضمانت بھی ہے: نعمان قرتلموش
ترکیہ: اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ عالمی امن کی ضمانت ہے
کورتولموش نے نیٹو ارکان اور عالمی برادری سے خطے میں جاری امن کوششوں کی حمایت کرنے کی اپیل کی۔ / AA

ترکیہ  قومی اسمبلی کے اسپیکر نعمان قرتلموش نے آج بروز پیر جاری کردہ بیان میں  کہا ہے کہ "اسرائیلی حکومت کی  جارحانہ کارروائیوں کا خاتمہ نہ صرف فلسطینیوں کے امن و سکون کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی امن کی ضمانت بھی ہے"۔

استنبول میں منعقدہ نیٹو پارلیمانی سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں  قرتلموش نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتااور جب تک فلسطینی آزادی حاصل نہیں کرتے خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "اسرائیلی حکومت کی ان جارحانہ کارروائیاں کا ختم ہونا صرف فلسطینیوں کے لئے ہی نہیں پوری دنیا کے لئے  امن کی ضمانت ہے"۔

 انہوں نے ایک بار پھر مشرقی القدس کے  دارالحکومت  والی  آزاد، حقیقی معنوں میں خودمختار اور مقتدر فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا ہے کہ "دنیا کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ دو ریاستی حل کے سوا اور کوئی راستہ  نہیں ہے  اور اسی پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔"

قرتلموش نے نیٹو کے رکن ممالک اور عالمی برادری سے خطے میں جاری امن کوششوں کی حمایت کی اپیل بھی کی اورحالیہ  ایران ۔ امریکہ مفاہمتی یادداشت کے  حوالے سے  کہا ہے کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ میں شروع ہونے والے مذاکرات کامیابی سے اپنے منطقی انجام تک پہنچیں گے اور امریکہ اور ایران کے درمیان صرف جنگ بندی ہی نہیں ہوگی  بلکہ مستقل، منصفانہ اور پائیدار امن بھی قائم ہو جائے گا"۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا  ہےکہ ترکیہ نے ماضی میں ،بحیرۂ اسود اناج معاہدے اور یوکرین اور روس کے درمیان متعدد مرتبہ قیدیوں کے تبادلے میں سہولت کی فراہمی سمیت، ثالثی کی متعدداہم کوششیں کی ہیں ۔

دفاعی تعاون کے حوالے سے قرتلموش نے کہا  ہےکہ ترکیہ نے دفاعی صنعت میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور وہ اپنی صلاحیتیں اتحادی ممالک کے ساتھ بانٹنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا  ہےکہ ترکیہ مجموعی قومی پیداوار کا پانچ فیصد دفاعی اخراجات پر خرچ کرنے کے ہدف کا پابند ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بعض اتحادی ممالک کی جانب سے ترکیہ کی دفاعی صنعت پر عائد پابندیوں پر تنقید کی اور انہیں "یک طرفہ، بے معنی اور اتحاد کی روح کے منافی" قرار دیا ہے۔

قرتلموش نے ایک "نئے، منصفانہ اور مساوی عالمی نظام" کے قیام کے لیے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہے کہ اس وقت  دنیا اور نیٹو ایک "تاریخی موڑ" پر کھڑے ہیں۔

دریافت کیجیے
کینیڈا ہماری ریاست بنے بغیر تمام فوائد چاہتاہے:ٹرمپ
ہمسایہ ممالک امریکہ کا آلہ کار نہ بنیں ورنہ انجام ٹھیک نہ ہوگا:ایران
"اسرائیل پر پابندی ختم "کولومبیا کوئلہ برآمد کرےگا
جب تک اقتدار پر ہوں فلسطینی ریاست کا قیام ممکن نہیں ہوگا:نیتن یاہو
ایران ' نہ جنگ ، نہ امن' کی صورتحال کا خاتمہ چاہتا ہے:پزشکیان
اسرائیلی فوجی حکام نیتن یاہو انتخابات میں تاخیر کرنے کے لیے تشدد میں اضافے کی کوشش کر سکتے ہیں: رپورٹ
قالیباف: ہمیں ہمسایہ ممالک سے سیکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے پیغامات موصول ہوئے ہیں
امریکی سفیر: شام میں اسرائیلی حملے کے پیچھے غلط معلومات کا ہاتھ تھا
کولمبیا میں زلزلے سے اموات کی تعداد میں اضافہ؛ ترکیہ کی انسانی امداد کی فراہمی میں تیزی
یوکرینی ڈراونز نے روسی علاقے ثمارا میں ایک صنعتی تنصیب اور اوزون گودام کو نشانہ بنایا
ترکیہ کی صدر ایردوان کے خلاف تبصروں پر اسرائیل کی مذمت
ایرانی فوج دفاعی نظریے سے حملہ آور نظریے کی طرف مڑ رہی ہے: فوجی ترجمان
امریکہ: چارٹر طیارے کے حادثے میں تمام 8 افراد ہلاک
روس: ماسکو ایران پر کوئی دباؤ نہیں ڈال رہا
امریکہ: ٹریژری بانڈوں کی پیداوار ایک بار پھر بڑھ گئی