سیاست
4 منٹ پڑھنے
ایران-امریکہ مذاکراتی دور عمان میں شروع ہو گیا
تہران: ہم، اپنے جوہری کام پر پابندیاں ختم کروانے کے لیے، مذاکرات کرنے پر تیار ہیں
ایران-امریکہ مذاکراتی دور عمان میں شروع ہو گیا
FILE - This combo shows Iranian Foreign Minister Abbas Araghchi, left, pictured in Tehran, Iran, on Feb. 25, 2025 and Steve Witkoff, right, White House special envoy, pictured in Washington, on March 19, 2025. / AP
11 مئی 2025

ایران اور امریکہ نے اتوار کے روز مسقط میں جوہری مذاکرات کے ایک اور دور کا آغاز کر دیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، "ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا چوتھا دور چند منٹ پہلے مسقط میں عمان کی ثالثی کے ساتھ شروع ہو گیا ہے۔"

ایک ایسے دور میں کہ جب ٹرمپ کے 13 تا 16 مئی کے دورہ مشرق وسطیٰ سے قبل واشنگٹن کا موقف سخت ہو گیا ہے ایرانی اور امریکی اعلیٰ مذاکرات کار تہران کے جوہری پروگرام پر تنازعات کو حل کرنے کے لیے بات چیت کریں گے ۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف مسقط میں عمانی ثالثوں، بشمول عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی، کے ذریعے مذاکرات کے چوتھے دور میں حصہ لیں گے۔ تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ رائے عامہ کے سامنے واشنگٹن  جس سخت موقف کا اظہار کر رہا ہے وہ مذاکرات کے لیے غیر مددگار ثابت ہو گا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ مذاکراتی مراحل کی طرح  ان مذاکرات میں بھی  بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں  طرح کے مذاکراتی حصے شامل ہوں گےتاہم مسقط اور روم میں ہونے والے دیگر ادوار کی طرح، تفصیلات اب بھی مبہم ہیں۔

اگرچہ تہران اور واشنگٹن دونوں نے کہا ہے کہ وہ دہائیوں پرانے تنازعے کو حل کرنے کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ان کے درمیان کئی  اہم نکات پر گہرے اختلافات بھی پائے جاتے  ہیں جنہیں مذاکرات کاروں کو ،ایک نیا جوہری معاہدہ کرنے اور مستقبل کی فوجی کارروائیوں سے بچنے کے لیے، حل کرنا ہوگا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اگرچہ عراقچی اور وٹکوف نے مذاکرات میں آمنے سامنے ملاقات اور گفتگو کی ہے، لیکن زیادہ تر مذاکرات بالواسطہ معلوم ہوتے ہیں، جن میں البوسعیدی دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچا رہے ہیں۔

باریک سرخ لکیر

ایران نے اصرار کیا ہے کہ یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو برقرار رکھنا ملک کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔

جمعرات کو، وٹکوف نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں پہلے یہ تجویز دے کر مسئلے کو الجھا دیا کہ ایران 3.67 فیصد پر یورینیم افزودہ کر سکتا ہے، پھر بعد میں کہا کہ تمام افزودگی کو روکنا ہوگا۔

بریٹبارٹ نیوز سے بات کرتے ہوئے، وٹکوف نے کہا کہ واشنگٹن کی سرخ لکیر یہ ہے: "کوئی افزودگی نہیں۔ اس کا مطلب ہے خاتمہ، کوئی ہتھیار سازی نہیں،" جس کے لیے ایران کے نطنز، فردو، اور اصفہان کی جوہری سہولیات کو مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔

وٹکوف نے مذاکرات کے بارے میں کہا، "اگر وہ اتوار کو نتیجہ خیز نہیں ہوئے، تو وہ جاری نہیں رہیں گے اور ہمیں ایک مختلف راستہ اختیار کرنا ہوگا۔"

وٹکوف کے بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، عراقچی نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران اپنے جوہری حقوق، جن میں یورینیم افزودگی شامل ہے، پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ایرانی حکام کے مطابق، تہران پابندیوں کے خاتمے کے بدلے اپنے جوہری کام پر کچھ پابندیوں پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن اپنے افزودگی پروگرام کو ختم کرنا یا اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو حوالے کرنا "ایران کی سرخ لکیروں میں شامل ہے جن پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔"

مسقط روانگی سے قبل، عراقچی نے ایرانی سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ "ایران کے معروف موقف واضح اصولوں پر مبنی ہیں... ہمیں امید ہے کہ اتوار کے اجلاس میں ایک فیصلہ کن موقف تک پہنچیں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی ماہر ٹیم عمان میں موجود ہے اور "ضرورت پڑنے پر مشورہ کیا جائے گا۔"

وزیر کے مطابق، تہران کا یورینیم افزودگی کا حق "ناقابلِ مذاکرات" ہے۔ عراقچی نے مذاکرات کے لیے روانگی سے قبل ایک ویڈیو میں کہا، "افزودگی کی صلاحیت ایرانی قوم کے اعزازات اور کامیابیوں میں سے ایک ہے،" اور مزید کہا کہ یہ "ناقابلِ مذاکرات" ہے۔

دریافت کیجیے
تہران کی نیک نیتی کو کمزوری نہ سمجھا جائے: باقر قالیباف
پاکستانی وزیر اعظم انطالیہ سے صدر ایردوان  کے لیے تعریفی الفاظ اور دوستی کے پیغامات کے ساتھ روانہ
اسرائیل سیکورٹی کو بہانہ بنا کر 'زمینوں پر مزید قبضہ' کر رہا ہے، ترک وزیر خارجہ فیدان
آسڑیلیا اور جاپان کے مابین 7 بلین ڈالر کے جنگی جہازوں کی تیاری کا معاہدہ طے
ترک وزیر خارجہ کی امریکہ۔ایران معاہدے کے ایجنڈے پر مصر، پاکستان اور سعودی عرب کے ہم منصبوں سے ملاقات
ایردوان: ایران پر غیر قانونی حملوں سے علاقائی سیکیورٹی خطرات میں اضافہ ہوا ہے
ایران: جب تک لبنان میں فائر بندی جاری ہے ہُرمز کھُلا رہے گا
صدر رجب طیب ایردوان کی پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات
ایران نے آبنائے ہُرمز کو تمام جہازوں کے لئے کھولنے کا اعلان کر دیا
آرتیمیس دوئم کی ٹیم زمینی ماحول سے ہم آہنگی کے مرحلے میں
دس روزہ لبنان۔اسرائیل جنگ بندی معاہدہ نافذ العمل ہو گیا
انطالیہ ڈپلومیسی فورم 2026 شروع ہوگیا
آئی ایم ایف: مہنگائی اور سست اقتصادی ترقی یورپ کی منتظر ہے
عرب ممالک کا اسرائیل-لبنان فائر  بندی پر خیر مقدم، اسلحہ کو سرکاری کنٹرول میں لینے پر زور
ترکیہ: اردوعان۔محمود ملاقات