امریکہ کے وفاقی حکام نے ڈیموکریٹ رکن اسمبلی' الہان عمر' کے کنبے کو سمن جاری کر دئیے ہیں۔
روزنامہ دی نیویارک ٹائمز نے منگل کو شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ رکن 'الہان عمر' کے خلاف تحقیقات کرنے والے وفاقی حکام نے ان کے خاندان کے بعض افراد کو عدالت میں پیش ہونے کے حکم نامے جاری کئے ہیں۔ یہ کاروائی خاندان کے امیگریشن ریکارڈ سے متعلق جاری فوجداری تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی ہے۔
اخبار نے ،معاملے سے واقف افراد کے حوالے سے جاری کردہ خبر میں، کہا ہے کہ الہان عمر کی بہن صحرا نور اور خاندان کے ایک اور فرد کو، عدالت میں بیان ریکارڈ کرانے کے، سمن موصول ہوئے ہیں۔
یہ پیش رفت ، وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل، وزارتِ داخلہ سلامتی کے اہلکاروں کی طرف سے واشنگٹن ڈی سی میں الہان عمر کے گھر کی تلاشی لئے جانے اور گھر سے دستاویزات کے متعدد ڈبےنکالے جانے کے بعد سامنے آئی ہے ۔
خبر کے مطابق تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آیا الہان عمر کے مرحوم والد نور عمر محمد نے امریکی شہریت حاصل کرنے سے پہلے امیگریشن فارموں میں غلط بیانی کی تھی یا نہیں یا پھربعض معلومات چھپائی تھیں یا نہیں۔
الہان عمر نے پیر کے روز اپنے گھر پر وفاقی حکام کے چھاپے اور تلاشی پر تنقید کی اور کہا ہے کہ یہ کاروائی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سیاسی مخالفین کو خوف زدہ کرنے کی کوشش ہے۔
سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں انہوں نے اپنی خیریت کی تصدیق کی اور کہا ہے کہ ’’کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ مجھے خاموش نہیں کرایا جا سکے گا۔ یہ کاروائی، سیاسی دشمنوں کو نشانہ بنانے اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش ہے۔‘‘
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ بیان میں الہان عمر پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا اور کہا تھا کہ ’’امریکہ جواب چاہتا ہے اور ہم یہ جواب ابھی چاہتے ہیں!‘‘
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ انہیں الہان عمر کے گھر کی تلاشی کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔















