یوکر ینی صدر ولودیمیر زیلینسکی نے کہا ہے کہ یوکرین موجودہ جنگی محاذ پر تنازع کو منجمد کرنے اور روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
بدھ کے روز فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے زیلینسکی نے کہا کہ یوکرین روس سے کم از کم جنگ بندی کی توقع کرے گا جس کے بعد کیف امریکہ اور یورپی ممالک سے سیکیورٹی ضمانتیں حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں تنازعےکو منجمد کرنا ہوگا اور میرے خیال میں اس جنگ کو ختم کرنے کا یہ ایک حقیقی طریقہ ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یوکرین جنگ کے خاتمے کے بدلے دونباس کا علاقہ روس کے حوالے کر دے گا، تو زیلینسکی نے کہا کہ یوکرینی لڑائی سے تھک چکے ہیں لیکن وہ آسانی سے اپنی زمین نہیں چھوڑ سکتے۔
انہوں نے ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ روس میدانِ جنگ میں جیت رہا ہے انہوں نے کہا کہ ماسکو کیف پر اپنے علاقے سے پیچھے ہٹنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مذاکرات میدانِ جنگ میں موجودہ پوزیشنوں سے شروع ہونے چاہئیں اور سفارت کاری کے ذریعے امن منصوبہ تیار کیا جانا چاہیے۔
زیلینسکی نے منگل کے روز اوسلو میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ اپنی ملاقات کو کامیاب قرار دیا۔ انہوں نے ان مذاکرات کی میزبانی کرنے پر ناروے کے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا، جس میں یورپی رہنما اور امریکی حکام بھی شامل تھے، بشمول جیرڈ کشنر جنہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
زیلینسکی نے کہا کہ بات چیت میں امن کے لیے ممکنہ اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ روس میں وٹکوف کی ملاقات سے مزید معلومات حاصل ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ کشیدگی کم کرنے کی طرف ابتدائی اقدامات میں ایسی جنگ بندی شامل ہو سکتی ہے جو غذائی تحفظ، سمندری سرگرمیوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کا احاطہ کرے۔
زیلینسکی نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کی تجویز کی فوری طور پر حمایت کی تھی جبکہ مجھے امید ہے کہ آج کچھ گھنٹوں میں ہمارے پاس کچھ نتائج ہوں گے۔



















