یورپی یونین نے طویل تاخیر کے بعد یوکرین کی شمولیت کی درخواست کو اگلے مرحلے پر منتقل کر دیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کیئف کے لیے مکمل رکنیت کا راستہ آسان ہو رہا ہے۔
27 ممالک کے اس بلاک کے وزرائے خارجہ یوکرین اور ہمسایہ ملک مالدووا کے ساتھ یورپی یونین قوانین کے پہلے گروپ کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے باضابطہ طور پر مذاکرات کا آغاز کریں گے۔
یوکرین کی پیشرفت لگ بھگ دو سال سے رکی ہوئی تھی کیونکہ ہنگری کے رہنما وکٹر اوربان ہر پیشرفت پر ویٹو کر رہے تھے، لیکن اپریل میں ان کے حریف پیٹر مگیار کے ہاتھوں ان کی انتخابی شکست نے اس کا راستہ کھول دیا۔
یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ ان اصلاحات کو آگے بڑھانے میں دونوں ممالک کی طرف سے دکھائی جانے والی عزم، ہمت اور محنت کا اعتراف ہے جو انہوں نے انتہائی مشکل چیلنجوں کے باوجود دکھائی ہے ، بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال سے بھری دنیا میں یورپی یونین کا بڑا ہونا ہم سب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔"
لیکن اس تمام تر جوش و خروش اور روس کے حملے کے بعد کیئف کی طرف سے رکنیت کے لیے دی گئی درخواست کے چار سال بعد تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کی اپیلوں کے باوجود اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یوکرین جلد ہی اس بلاک میں شامل ہونے جا رہا ہے۔
خالص عملی لحاظ سے دیکھا جائے تو، یوکرین کے قوانین، اداروں اور معیارات کو یورپی یونین کے مطابق بنانے کے لیے تاحال ایک بہت بڑا کام باقی ہے۔ اس میں ماحولیات اور زراعت سے لے کر انصاف اور سلامتی تک ہر چیز کا احاطہ کرنے والے 35 ابواب پر مذاکرات شامل ہیں—جنہیں چھ گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔
ایک یورپی سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ یہ ایک طویل عمل ہے۔ یوکرین جنگ کی حالت میں ہے۔ اسے منظم جرائم کے مسائل حل کرنے ہیں۔
ہنگری کے وزیراعظم مگیار نے وعدہ کیا ہے کہ اگر یوکرین اگلے 10 سے 15 سالوں کے اندر تمام مذاکرات مکمل کر لیتا ہے، تو وہ کیئف کی شمولیت پر ریفرنڈم کرائیں گے۔
جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اپریل میں کہا تھا کہ یہ بات سب پر واضح ہے کہ یوکرین کی یورپی یونین میں فوری شمولیت یقیناً ممکن نہیں ہے۔"
مرز نے تجویز دی ہے کہ یوکرین کو ووٹنگ کے حقوق کے بغیر یورپی یونین کا ایک "ایسوسی ایٹ ممبر" بنا دیا جائے جبکہ اس دوران کیئف مکمل طور پر شامل ہونے کے طویل عمل سے گزرتا رہے۔
اس منصوبے کو یوکرین کی جانب سے شک کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے، جسے ڈر ہے کہ کسی بھی عارضی حل کی وجہ سے وہ ہمیشہ کے لیے ادھورے راستے پر ہی پھنس کر رہ جائے گا۔
صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اصرار کیا ہے کہ یوکرین کی شمولیت کامل اور مکمل حقوق کے ساتھ ہونی چاہیے۔
لیکن جیسے ہی یوکرین، مالدووا اور دیگر امیدوار ممالک دروازے پر دستک دے رہے ہیں، یورپی یونین کی شمولیت کے عمل میں تبدیلی لانے کے لیے ایک وسیع تر کوشش کی جا رہی ہے۔
جرمنی اور فرانس سمیت چھ ممالک نے بلاک پر زور دیا ہے کہ وہ نئے ارکان کے لیے اہم مسائل پر ووٹنگ کے حقوق کو محدود کرنے اور قانون کی حکمرانی کے تحفظات کو سخت کرنے پر بحث کریں۔
مغربی بلقان کے دو ممالک مونٹی نیگرو اور البانیہ اس وقت شامل ہونے والے سب سے قریبی امیدوار ہیں اور نئے ارکان کی ایک بڑی تعداد یورپی یونین کو چلانے میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔
یوکرین اور اس کے حامیوں کے لیے کیئف کو شامل کرنا بلاک کے بنیادی مفاد میں ہے اور یورپی یونین کو اس کے وقت کے حوالے سے ایک واضح اشارہ دینے کی ضرورت ہے۔
زیلنسکی نے جمعہ کے روز کہا کہ مذاکرات کا آغاز ملک کے لیے "نمایاں سیاسی اور اخلاقی مدد" لے کر آیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یوکرین وہ سب کچھ کر رہا ہے جو ضروری ہے، اور یہ اہم ہے کہ یورپی یونین بھی اپنا وعدہ پورا کر رہی ہے۔"
لیتھوانیا کے وزیر خارجہ کیسٹوٹیس بڈریس نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بلاک 2030 تک یوکرین کو قبول کرنے کے لیے خود کو تیار کر لے۔
انہوں نے کہا کہ "اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس بات کی ضمانت ہے کہ یوکرین 2030 میں ایک رکن ملک بن جائے گا۔ یہ یوکرین پر منحصر ہے کہ آیا وہ اصلاحات کرتا ہے، اور یہ مذاکرات پر منحصر ہے۔











