نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فضائی دفاعی میزائلوں کے گرتے ہوئے ذخائر پر تشویش کے باعث ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں تیزی لانے کے منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ جمعے کے روز سینئر مشیروں اور کابینہ کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس کے بعد کیا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی حکام نے خبردار کیا تھا کہ دوبارہ شروع کی جانے والی بڑی جنگی کارروائیاں پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور دیگر فضائی دفاعی گولہ بارود کو خطرناک حد تک کم کر سکتی ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں اور اڈوں کے تحفظ کے لیے درکار ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو یہ تشویش بھی ہے کہ کشیدگی میں مزید اضافہ ایران کی طرف سے شدید ردعمل کو ہوا دے سکتا ہے، خلیجی اتحادیوں کو دور کر سکتا ہے اور عالمی توانائی و پناہ گزینوں کے بحران کو مزید خراب کر سکتا ہے۔
جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے مبینہ طور پر ذاتی گفتگو میں خبردار کیا کہ بڑی جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن تو ہے لیکن اس سے امریکی سینٹرل کمانڈ کے پاس دستیاب انٹرسیپٹر ذخائر میں نمایاں کمی آئے گی، جو مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چونگ نے کہا کہ ٹرمپ "ہمیشہ مستقل مزاجی سے یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز میں یا اتحادیوں کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو وہ تمام آپشنز برقرار رکھیں گے۔"
چونگ نے مزید کہا کہ "ایران کے لیے عقلمندی اسی میں ہوگی کہ وہ مذاکرات کے ذریعے معاہدے کی طرف بڑھے، ورنہ وہ جانتے ہیں کہ کیا ہوگا۔"
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ تنازع میں کیسے آگے بڑھا جائے اور نئی دشمنیوں کے بعد ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کیسے کھولا جائے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ سفارت کاری تعطل کا شکار ہے اور حالیہ امریکی حملے ایران کو عسکری طور پر روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ سینئر امریکی حکام کو شک ہے کہ دوبارہ شروع کی جانے والی بڑی جنگی کارروائیاں تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائیں گی، ان کا استدلال ہے کہ مزید حملے اس کے بجائے ایرانی قیادت کے گرد اندرونی اتحاد کو مضبوط کر سکتے ہیں۔"

















