دنیا
3 منٹ پڑھنے
ایران کے خلاف عسکری کاروائیوں میں تیزی فی الوقت روک دی ہے:ٹرمپ
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فضائی دفاعی میزائلوں کے گرتے ہوئے ذخائر پر تشویش کے باعث ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں تیزی لانے کے منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے
ایران کے خلاف عسکری کاروائیوں میں تیزی  فی الوقت روک دی ہے:ٹرمپ
ٹرمپ-ایران / AP

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فضائی دفاعی میزائلوں کے گرتے ہوئے ذخائر پر تشویش کے باعث ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں تیزی لانے کے منصوبوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یہ فیصلہ جمعے کے روز سینئر مشیروں اور کابینہ کے حکام کے ساتھ ایک اجلاس کے بعد کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی حکام نے خبردار کیا تھا کہ دوبارہ شروع کی جانے والی بڑی جنگی کارروائیاں پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز اور دیگر فضائی دفاعی گولہ بارود کو خطرناک حد تک کم کر سکتی ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں اور اڈوں کے تحفظ کے لیے درکار ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو یہ تشویش بھی ہے کہ کشیدگی میں مزید اضافہ ایران کی طرف سے شدید ردعمل کو ہوا دے سکتا ہے، خلیجی اتحادیوں کو دور کر سکتا ہے اور عالمی توانائی و پناہ گزینوں کے بحران کو مزید خراب کر سکتا ہے۔

جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے مبینہ طور پر ذاتی گفتگو میں خبردار کیا کہ بڑی جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنا ممکن تو ہے لیکن اس سے امریکی سینٹرل کمانڈ کے پاس دستیاب انٹرسیپٹر ذخائر میں نمایاں کمی آئے گی، جو مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چونگ نے کہا کہ ٹرمپ "ہمیشہ مستقل مزاجی سے یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز میں یا اتحادیوں کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو وہ تمام آپشنز برقرار رکھیں گے۔"

چونگ نے مزید کہا کہ "ایران کے لیے عقلمندی اسی میں ہوگی کہ وہ مذاکرات کے ذریعے معاہدے کی طرف بڑھے، ورنہ وہ جانتے ہیں کہ کیا ہوگا۔"

رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ تنازع میں کیسے آگے بڑھا جائے اور نئی دشمنیوں کے بعد ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کیسے کھولا جائے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ سفارت کاری تعطل کا شکار ہے اور حالیہ امریکی حملے ایران کو عسکری طور پر روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ سینئر امریکی حکام کو شک ہے کہ دوبارہ شروع کی جانے والی بڑی جنگی کارروائیاں تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائیں گی، ان کا استدلال ہے کہ مزید حملے اس کے بجائے ایرانی قیادت کے گرد اندرونی اتحاد کو مضبوط کر سکتے ہیں۔"

 

دریافت کیجیے
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جاپان کی وزیر اعظم کا غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھنے کے واضح وعدے سے گریز
سی آئی اے نے کیوبا کے لیے پوشیدہ ٹاسک فورس تشکیل  دے دی
یکاترینبرگ کے قریب کار دھماکہ، روسی ڈرون بنانے والی کمپنی کے سربراہ شدید زخمی
لبنانی مہاجرین اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں: اقوامِ متحدہ
امریکا نے برازیل کے سفیر کے ویزے کو منسوخ کر دیا
دنیا جاپان سے ہوشیار رہے: شمالی کوریا
ترکیہ قومی خفیہ سروس کے ڈائریکٹر جنرل کی لیبیائی عہدیداروں سے انقرہ میں مذاکرات
روسی میزائل اور ڈراون حملوں میں کیف کے قرب و جوار میں 14 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
فلپائن میں 6.3 کی شدّت کا زلزلہ