اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم بتسلیم (B'Tselem) نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اپنی ’’نسلی صفائی‘‘ پالیسی کو مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل تک وسعت دے رہا ہے۔
تنظیم کے مطابق، فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر جبری بے دخلی اور عمارتوں کی وسیع پیمانے پر مسماری کے منصوبوں پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔
تنظیم نے غیر ملکی حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی شہریوں کی جبری بے دخلی، اجتماعی سزا کے اقدامات اور غیر قانونی طور پر بڑے پیمانے پر مسماری کو روکنے کے لیے بین الاقوامی قانون کے تحت دستیاب تمام ذرائع استعمال کریں۔
بتسلیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’اسرائیلی رہنما اپنے عزائم کا کھل کر اعلان کر رہے ہیں اور زمینی سطح پر ان پر عمل درآمد بھی شروع ہو چکا ہے۔‘‘
یہ انتباہ جمعے کے روز الخلیل کے قریب ہونے والے ایک مسلح حملے کے بعد سامنے آیا، جس میں دو اسرائیلی فوجیوں اور دو فلسطینیوں کی ہلاکت ہوئی، جبکہ تین اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے۔
حملے کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایسے اقدامات کا اعلان کیا جن میں علاقے کے رہائشیوں کی جبری بے دخلی اور بڑے پیمانے پر تباہی شامل ہے۔
نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’’ہم شہری علاقوں میں بھی وہی کامیاب حملوں کی حکمتِ عملی اپنائیں گے جو ہم نے پناہ گزین کیمپوں میں استعمال کی ہے۔‘‘
بتسلیم نے یاد دلایا کہ اس حکمتِ عملی کے نتیجے میں مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی علاقوں سے 33 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو بے دخل ہونا پڑا ہے۔























