ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن کی صدر اورسولا وون دیر لیئن کے حالیہ بیانات 'افسوسناک' تھے، اس معاملے کو سفارتی راستوں کے ذریعے حل کر لیا گیا ہے۔
جمعہ کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں گفتگو کرتے ہوئے، فیدان نے کہا: ' کمیشن صدر کے بیانات افسوسناک تھے، ہمارے ضروری رابطے ہو چکے ہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ ہم نے اسے درست کر دیا ہے۔'
ترک وزیر کے یہ تبصرے وون دیر لیئن کے اسی ہفتے ہیمبرگ میں دیے گئے خطاب کے ردِعمل میں آئے ہیں۔
یورپی یونین کی توسیع کے سوال پر بات کرتے ہوئے یورپی یوین کمیشن کی صدر نے کہا تھا کہ : 'ہمیں یورپی براعظم کو مکمل کرنے میں کامیاب ہونا چاہیے تاکہ وہ روس، ترکیہ، یا چین کے اثرات میں نہ آئے۔'
مسئلے کا سیاسی استحصال
جمعہ کو، ترکیہ نے بھی 1915 کے واقعات کے بارے میں بعض ممالک کے حکام کے بیانات کے جواب میں ایک بیان جاری کیا، جس میں علاقائی استحکام پر زور دیا گیا اور 'مسئلے کے سیاسی استحصال' کی مخالفت کی گئی۔
ترک وزارت خارجہ نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر شائع بیان میں کہا: 'جنوبی قفقاز میں ابھرتا ہوا امن اور مفاہمت کا ماحول اُن لوگوں کی زوردار جوابی کارروائی ہے ، جو خطے کو استحکام اور تعاون کے گہوارے کے طور پر دیکھنے کے خواہاں ہیں۔
انقرہ نے کہا کہ متعلقہ فریق 'مسئلے کے سیاسی استحصال' کے خلاف مشترکہ موقف رکھتے ہیں۔
صدیوں سے بقائے باہمی کی مفاہمت
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بات کامشاہدہ کیا گیا ہے کہ بعض تیسری ملکی سیاستدان اس مسئلے کو اپنے تنگ سیاسی مفادات کے لیے استحصال کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا اپنی ذمہ داریوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اپنی طویل المدت پوزیشن کو دہراتے ہوئے، ترکیہ نے کہا کہ وہ تاریخی تحقیق اور شفافیت کا پابند ہے، اور اس بات کی نشاندہی کی کہ 'اس نے صدیوں سے بقائے باہمی کی مضبوط ترین مثالوں کی میزبانی کی ہے' اور 1915 کے واقعات کا موضوعی اور منصفانہ انداز میں جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ تاریخی کمیشن قائم کرنے کی اپنی تجویز کا اعادہ بھی کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 'ہم تعمیری نیت رکھنے والے تیسرے فریقین کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ مشترکہ اور منصفانہ یادداشت تک پہنچنے کی کوششوں اور حال ہی میں سامنے آنے والی مثبت گفت و شنید کے ماحول کی حمایت کریں۔'













