سیاست
3 منٹ پڑھنے
جرمنی: اب یوکرین، روس کے اندر، فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکے گا
ہمارا ملک اور دیگر بڑے اتحادی اب، روس کے خلاف جنگ میں استعمال کے لئے، یوکرین کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کی مار کی حد پر کوئی پابندی نہیں لگائیں گے: مرز
جرمنی: اب یوکرین، روس کے اندر، فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکے گا
Ukraine gains strategic long-range strike ability with allied backing. / Reuters
27 مئی 2025

جرمنی کے نئے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ "ہمارا  ملک اور دیگر بڑے اتحادی اب، روس کے خلاف جنگ میں استعمال کے لئے، یوکرین کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کی مار کی حد پر کوئی پابندی  نہیں لگائیں گے "۔

فریڈرک مرز نے جرمنی کی قیادت سنبھالنے سے تقریباً تین ہفتے بعد ، روس یوکرین جنگ کے خاتمے اور یوکرین کے لئے مغربی حمایت کے دوام کی خاطر، سفارتی کوششوں  کا آغاز کر دیا ہے۔

پیر کے روزجاری کردہ بیان میں  انہوں نے کہا ہے کہ "اب یوکرین کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں پرمار کے فاصلے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔  نہ برطانویوں کی طرف سے، نہ فرانسیسیوں کی طرف سے، نہ ہماری طرف سے، اور نہ ہی امریکیوں کی طرف سے۔"

انہوں نے مزید کہا ہے کہ "اس کا مطلب یہ ہے کہ یوکرین اب اپنے دفاع کے لیے روس کے فوجی مقامات پر حملہ کر سکتا ہے۔ ہتھیار کی مار کی مسافت پر پابندی کی وجہ سے  پہلے یہ ممکن نہیں تھا، لیکن اب یہ ممکن ہے۔"

مرز نے وضاحت کی ہے  کہ "تکنیکی زبان میں ہم اسے 'طویل المسافت  فائرنگ' کہتے ہیں، یعنی  یوکرین کو ایسے ہتھیار فراہم  کئے جائیں گے جو روس کے اندر فوجی اہداف کو نشانہ بناسکتے ہوں"۔

چانسلر فریڈرک مرز نے موضوع سے متعلق  تفصیلات فراہم نہیں کیں لہٰذا  یہ واضح نہیں ہے  کہ آیا وہ گذشتہ سال طویل المسافت  ہتھیاروں پر پابندی میں نرمی کا حوالہ دے رہے ہیں یا نہیں۔

کریملن:نہایت خطرناک

مرز کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے، کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا  ہےکہ فاصلے کی پابندی ختم کرنے کا فیصلہ "نہایت درجہ خطرناک" اور "سیاسی تصفیے کی کوششوں کے برعکس" فیصلہ ہو گا"۔

پیسکوف نے کہا ہے کہ " اگر واقعی ایسے، حالات میں شدّت پیدا کرنے کے اہل، فیصلے    کیے گئے ہیں، تو یہ ہماری، سیاسی تصفیے کے لیے کی جانے والی، کوششوں کے بالکل برعکس ہیں۔"

جرمنی، امریکہ کے بعد،  یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے والا دوسرا  بڑا ملک ہے ۔

واضح رہے کہ سابق جرمن چانسلر اولاف شُولز نے یوکرین کو ، مذکورہ طویل المسافت کروز میزائل، "ٹورس" کی فراہمی مسترد کر دی تھی۔اگرچہ بحیثیت حزبِ اختلاف ' مرز ' یوکرین کو یہ میزائل فراہم کرنے کے حق میں تھے لیکن بحیثیت اقتدار  کے  ابھی یہ صورتحال واضح نہیں ہے کہ  مرز انتظامیہ  یوکرین کو مذکورہ طویل المسافت کروز میزائل دے گی یا نہیں۔مرز حکومت نے"اسٹریٹجک ابہام" کی ضرورت پر زور دیا  اور  کہا ہے کہ ہم،شولز  انتظامیہ کی طرح، یوکرین کو فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کریں گے۔

ٹورس میزائل 500 کلومیٹر (310 میل) تک مار  کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دریافت کیجیے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے
ٹرمپ: امریکی فوجیں علاقے میں موجود رہیں گی
پاکستان: ہم، لبنان میں اسرائیلی 'جارحیت' کی سخت مذّمت کرتے ہیں
شمالی کوریا نے کلسٹر مونیشن وارہیڈ بیلسٹک میزائل کاتجربہ کر ڈالا
لبنان پر حملوں کا جواب،حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ برسا دیئے
امریکہ-ایران جنگ بندی کا اعلان،اسرائیل کی حمایت
لبنان پر اسرائیلی حملے، 4 افراد ہلاک
فائر بندی کی حمایت نیتن یاہو کی 'سیاسی ناکامی' ہے: لاپڈ
تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی، عالمی اسٹاک میں زبردست اضافہ
ایران: امریکہ نے 10 نکاتی امن تجویز کو 'اصولی طور پر' قبول کر لیا ہے
پاکستان: امریکہ اور ایران فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں
امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی بھیڑ کو سنبھالنے میں مدد کرے گا: ٹرمپ