دنیا
3 منٹ پڑھنے
اس وقت انتخابات کا انعقاد ایک 'غلطی' ہوگا: نیتن یاہو
میرا خیال ہے کہ اس وقت انتخابات ہماری آخری ترجیح ہیں۔ ہم اس سال کے اواخر میں انتخابات کروائیں گے اس وقت انتخابات کا انعقاد میرے خیال میں ایک غلطی ہوگا: نیتان یاہو
اس وقت انتخابات کا انعقاد ایک 'غلطی' ہوگا: نیتن یاہو
نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ میں تعمیر نو کا کوئی کام حماس کے غیر مسلح ہونے اور انکلیو کو غیر فوجی بنانے سے پہلے شروع نہیں ہوگا۔ (فائل) / Reuters
28 جنوری 2026

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اس وقت انتخابات کا انعقاد ایک 'غلطی' ہوگا۔

نیتان یاہو کو قومی بجٹ منظور کروا نے میں ناکامی کی صورت میں قبل از وقت انتخابات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بجٹ ،بروز بدھ  اسرائیلی پارلیمنٹ میں پڑھنا شروع کیا جائے گا کہ جس میں نیتان یاہو اتحاد صرف ایک سابق اتحادی کے غیر یقینی   تعاون کی وجہ سے برقرار  ہے۔

نیتن یاہو نے بروز منگل  ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ "بالکل، مجھے تشویش ہے... میرے خیال میں ہم ایک نہایت حساس صورتحال میں ہیں"۔

نیتان یاہو نے  کہا ہے کہ"میرا خیال ہے کہ اس وقت انتخابات ہماری آخری ترجیح  ہیں۔ ہم اس سال کے اواخر  میں انتخابات کروائیں گے اس وقت انتخابات کا انعقاد  میرے خیال میں ایک غلطی ہوگا"۔

واضح رہے کہ اگر 31 مارچ تک بجٹ منظور نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں قبل از وقت انتخابات کروائے جائیں گے۔

انتخابات نومبر تک متوقع  ہیں

اسرائیل کی مرکزی دائیں بازو کی سیاسی پارٹی لیکوڈ کے لیڈر نیتان یاہو طویل ترین عرصے سے   وزار تِ اعظمیٰ پر فائز رہے ہیں۔ نیتان یاہو  1996 کے بعد مختلف ادوار میں مجموعی طور پر 18 سال سے زائد عرصے سے وزیرِ اعظم ہے اور  دوبارہ انتخاب لڑنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

گذشتہ انتخابات میں لیکوڈ پارٹی نے کنیسٹ میں 32 نشستیں جیتیں  ان کے انتہائی مذہبی حلیفوں نے 18 نشستیں حاصل کیں اور ایک انتہاپسند دائیں بازو کے اتحاد کو 14 نشستیں ملی تھیں۔

تناؤ کے نکات

نیتن یاہو کے بعض انتہائی مذہبی حلیف پچھلے سال باضابطہ طور پر ان کی حکومت سے الگ ہو گئے تھے مگر فی الحال وہ حکومت گرانے سے انکار کر رہے ہیں۔

تاہم وہ اپنی برادری کے افراد کو فوجی خدمات سے مستثنیٰ کروانے کے قانون کی منظوری تک بجٹ کے بارے میں ووٹ کے استعمال کے بارے میں   محتاط ہیں ۔

نیتن یاہو کے موجودہ دور کا آغاز ایک متنازع عدالتی اصلاحاتی منصوبے کے ساتھ ہوا تھا جس نے کئی ماہ تک بڑے پیمانے کے  احتجاجی مظاہروں کو جنم دیا اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر  ہزاروں  اسرائیلی سڑکوں پر نکلتے رہے تھے۔

حزب اختلاف لیڈروں اور یرغمال بنائے گئے  افراد کے اہل خانہ نے بھی ان پر الزام لگایا  ہےکہ وہ اپنی سیاسی بقاء کے لیے غزہ میں جاری نسل کشی کو طول دے رہے ہیں۔

اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے غزہ میں نسل کُشی  کے دوران، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل،  71,600 سے زائد فلسطینیوں کو قتل اور 171,400 سے زائد زخمی کر چُکا ہے۔

نیتن یاہو نے کہا  ہے کہ حماس کے غیر مسّلح ہونے اور  غزّہ  کے عسکری قوت سے محرومی  تک علاقے میں کسی تعمیر نو کا آغاز نہیں ہوگا۔

دریافت کیجیے
نائجیریا میں ٹریفک حادثے میں کم از کم 30 افراد ہلاک
امریکہ خطے میں جو چاہے تعینات کر لے ہم خوفزدہ نہیں ہونگے:ایران
مودی کا دورہ ملائیشیا،دو طرفہ معاہدوں پر دستخط
شام: سویدا میں فائرنگ کا واقعہ،چار افراد ہلاک، ملزم گرفتار
سام سنگ نےچھٹی نسل کی ہائی بینڈ ودتھ میموری کی تیاری شروع کر دی
سوڈان میں آر ایس ایف کے اسپتال پر حملے،سعودی عرب کی مذمت
بھارت میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، ہلاکتوں کی تعداد 27 ہو گئی
ہونڈوراس کے صدر میرے دوست اور قابل تعریف شخصیت ہیں:ٹرمپ
اسرائیل کا 'توسیعی منصوبہ' مشرق وسطی اور ایران کو کمزور کرنے کا ہدف ہے، عراقچی
روسی حملوں نے یوکرین کے گرڈ اسٹیشنوں کو وسیع پیمانے کا نقصان پہنچایا
نتن یاہو: 'ایپسٹین اسرائیل کے لیے کام نہیں کرتا تھا'
میلان گیمز کے افتتاحی تقریب میں اسرائیلی کھلاڑیوں پر غزہ میں کی گئی نسل کشی پر ہجوم کی ہوٹنگ
وزیر خارجہ فیدان کی یورپی یونین کے توسیع کمشنر سے باہمی تعاون کو بڑھانے کی اپیل
پاکستان: مسجد میں بم دھماکہ، 30 افراد ہلاک، 130 سے زیادہ زخمی
ترکیہ: موساد کے 2 جاسوسوں کو گرفتار کر لیا گیا