امریکہ اور ایران کے خلیجی علاقوں میں حملوں میں تیزی آنے کے بعد ، آبنائے ہرمز میں تیل کی تجارت متاثر ہوئی اور بحرِ احمر میں مزید رسد میں خلل کا خدشہ بڑھ گیا، جس نے خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کر دیا۔
برنٹ پیٹرول 70 سینٹ یعنی 0.83 فیصد بڑھ کر فی بیرل 84.93 ڈالر تک چلا گیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کروڈ 81 سینٹ یعنی 1.03 فیصد بڑھ کر فی بیرل 79.76 ڈالر تک جا پہنچا ۔
دونوں بینچ مارکس نے اس ہفتے تقریباً 12 فیصد اضافہ کیا ہے۔ برنٹ مسلسل تین ہفتوں سے بلندی کی جانب مائل ہے۔
یہ تازہ اضافہ اس کے بعد آیا کہ امریکہ نے بدھ کو ایران کے جنوبی ساحل کے قریب اہداف پر 2 فضائی حملے کیے اور جمعرات کو حملے جاری رکھے، جو امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق لگاتار چھٹی رات کے حملے تھے۔
دریں اثنا قطر کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس کی مسلح افواج نے جمعہ کی صبح ایک ایرانی میزائل حملے کا سد باب کیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے اس دوران میزائل کے ٹکڑے گرنے سے ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے خبردار کیا کہ توانائی کی سلامتی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے جمعرات کو واشنگٹن میں کونسل آن فارن ریلیشنز کے ایک پروگرام میں کہا: ' اگر حالات اگلے چند ہفتوں میں بہتر نہ ہوئے تو ہمیں تشویش ہونی چاہیے ۔'
رسد سے متعلق خدشات میں اضافے پرتین ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے اپنے حوثی حلیفوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر امریکی حملے ملک کے بجلی یا توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائیں تو وہ بحرِ احمر کی بحری تجارتی راہداری بند کرنے کی تیاری کریں۔



















