برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ خلیج میں ایران کے میزائل حملوں میں تیزی کے بعد برطانیہ امریکہ کو "مخصوص اور محدود دفاعی مقاصد" کے لیے اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے گا۔
امریکہ نے ان مخصوص اور محدود دفاعی مقاصد کے لیے برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔
سٹارمر نے ایک بیان میں کہا کہ ہم نے اس درخواست کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایران کو خطے بھر میں میزائل داغنے، بے گناہ شہریوں کو ہلاک کرنے، برطانوی جانوں کو خطرے میں ڈالنےاور ایسے ممالک کو نشانہ بنانے سے روکا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کے فیصلے کی بنیاد دیرینہ دوستوں اور اتحادیوں کے اجتماعی دفاع اور برطانوی جانوں کے تحفظ پر ہے۔
سٹارمر نے مزید کہا کہ برطانیہ کے ایران پر حملوں میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ خطے اور دنیا کے لیے سب سے بہتر راستہ مذاکرات کے ذریعے حل ہے۔
حکومتِ برطانیہ کی ویب سائٹ پر شائع ایک الگ بیان میں اس کا قانونی موقف پیش کیا گیا۔
سٹارمر نے کہا کہ خطرے کو روکنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ میزائلوں کو ان کے ماخذ پر ان کے ذخیرہ گاہوں میں یا اُن لانچروں کو تباہ کیا جائے جن کے ذریعے انہیں داغا جاتا ہے۔
اتوار کے اوائل میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اگر ضروری ہوا تو وہ خلیج میں اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے ایران کے خلاف دفاعی کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سٹارمر نے کہا کہ متاثرہ خطے میں کم از کم 200,000 سے زائد برطانوی شہری موجود ہیں ۔
انہوں نے ان سے کہا کہ وہ اپنی موجودگی درج کرائیں اور وزارتِ خارجہ کے سفر سے متعلق مشورے پر عمل کریں جس میں بحرین، کویت، قطر، اور متحدہ عرب امارات میں موجود برطانوی شہریوں کو فوراً اپنے مقام پر پناہ لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔
سٹارمر نے کہا کہ ایران کی جانب سے یہ خطرہ برطانیہ کی مسلح افواج کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔















