بحری اور تجارتی ڈیٹا پلیٹ فارمز کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز سے تقریباً 90 جہاز، جن میں آئل ٹینکرز بھی شامل ہیں، گزر چکے ہیں۔گو کہ اس آبی گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند سمجھا جا رہا ہے۔
لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس نے کہا کہ اس راستے سے گزرنے والے کئی جہاز ایسے 'ڈارک' ٹرانزٹس تھے جو مغربی حکومتوں کی پابندیوں اور نگرانی سے بچ رہے تھے اور جن کے ممکنہ طور پر ایران سے روابط تھے۔ حال ہی میں بھارت اور پاکستان سے منسلک جہازوں نے بھی مذاکرات میں تیزی آنے پر کامیابی سے آبنائے ہرمز کو عبور کیا ہے۔
خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہیں تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں اور تجارتی شراکت داروں پر دباؤ ڈالا کہ وہ جنگی جہاز روانہ کریں اور آبنا کو دوبارہ کھولیں، تا کہ تیل کی قیمتیں نیچے آئیں۔
آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل و گیس کی نقل و حمل کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے اور دنیا کے خام تیل کی آمدورفت کا تقریباً 20 فیصد اسی مقام سے سرا نجام پاتا ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے زیادہ تر جہاز رکے ہوئے ہیں اور اس علاقے میں تقریباً 20 جہازوں پر حملے ہوئے ہیں۔
تاہم، تجارتی ڈیٹا اور تجزیاتی پلیٹ فارم Kpler کے اندازوں کے مطابق، ایران نے مارچ کے شروع سے اب تک 16 ملین بیرل سے کہیں زیادہ تیل برآمد کیا ہے۔ مغربی پابندیوں اور وابستہ خطرات کی وجہ سے چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔
Kpler کی تجزیہ کار آنا سباسک نے کہا کہ ایران کے تیل کی برآمدی مقدار میں 'مسلسل لچک' دیکھی گئی ہے۔
کن کاؤ، کنسلٹنگ فرم Reddal کے کلائنٹ ڈائریکٹر نے کہا کہ ایران نے آبنا پر کنٹرول کرتے ہوئے تیل کی فروخت سے فائدہ اٹھایا اور 'اپنی برآمدی شریان کو برقرار رکھا'۔
ایرانی تیل کی برآمدات کے اعداد و شمار کے تخمینے بڑی حد تک بحری ٹریفک کے اعداد و شمار کے مطابق ہیں۔
لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کے مطابق یکم تا 15 مارچ کے درمیان کم از کم 89 جہاز ہرمز سے گزرے — جن میں 16 آئل ٹینکرز شامل تھے — جو جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 100 تا 135 جہازوں کے گزرنے کی سطح سے کم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان 89 جہازوں میں سے ایک بٹا 5 سے زائد ایران سے وابستہ تھا، جبکہ باقی میں چین اور یونان سے وابستہ جہاز شامل تھے۔
دوسرے جہاز بھی راستہ پا رہے ہیں
لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کے مطابق پاکستانی پرچم بردار خام تیل ٹینکر 'کراچی'، جو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے کنٹرول میں ہے، اتوار کوآبنائے ہرمز سے گزرا۔
پاکستان پورٹ ٹرسٹ کے ترجمان شریق امین نے MT Karachi کے استعمال کردہ راستے کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کیا، مگر کہا کہ جہاز جلدی محفوظ طریقے سے پاکستان پہنچ جائے گا۔
لائیڈز لسٹ انٹیلی جنس کے مطابق ریاستی ملکیت والی شپنگ کارپوریشن آف انڈیا کے زیرِ انتظام بھارت کے پرچم والے مائعِ پیٹرولیم گیس (LPG) کیریئر 'شیوالیک' اور 'نندا دیوی' بھی تقریباً 13 یا 14 مارچ کے آس پاس آبنائے ہرمز سے گزرے۔ LPG کروڑوں بھارتی گھروں میں بنیادی کھانا پکانے کے ایندھن کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے فائننشل ٹائمز کو بتایا کہ ان دونوں جہازوں کو ایران کے ساتھ بات چیت کے بعد گزرنے کی اجازت ملی۔ عراقی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ عراق بھی عراقی آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کی اجازت دینے کے لیے ایران کے ساتھ بات چیت میں تھا۔
لائیڈز لسٹ کے چیف ایڈیٹر رچرڈ میڈ نے کہا کہ جہاز 'کم از کم کسی سطح تک سفارتی مداخلت' کے ساتھ گزر رہے ہوں گے۔ اس لیے ایران نے 'عملی طور پر ایک محفوظ راستہ' قائم کر دیا ہو سکتا ہے، جس میں کچھ جہاز ایرانی ساحل کے قریب سے گزر رہے ہیں۔
مارین ٹریفک پلیٹ فارم پر مبنی ایک پہلے کے تجزیے کے مطابق بعض جہاز جنہیں آبنائےہرمز کے نزدیک یا اندر دیکھا گیا، انہوں نے خود کو چین سے منسلک یا تمام چینی عملے کے ساتھ ظاہر کیا تاکہ حملے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ چین کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات سے فائدہ اٹھا رہے تھے۔
ایران جنگ کے آغاز کے بعد سے تیل کی قیمتیں 40 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 100 فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں اور ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے لیے جانے والا 'ایک لیٹر بھی' تیل آبنائے ہرمز سے نہیں گزرنے دے گا۔
وزیر خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے پیر کو سی این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا۔تیل کی قیمتوں کو مستحکم کرنے کی کوشش میں، امریکہ ایرانی آئل ٹینکرز کوآبنائے ہرمز عبور کرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ 'ایرانی جہاز پہلے ہی باہر نکل رہے ہیں، اور ہم نے دنیا کے باقی حصے کو فراہم کرنے کے لیے اسے ہونے دیا ہے۔
امریکہ نے ایرانی ساحل کے قریب واقع خارک جزیرے پر فوجی مقامات کو بمباری کا نشانہ بنایا، جو ایران کے تیل کے نیٹ ورک اور برآمدات کے لیے اہم ہے، مگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس نے فی الحال اس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو چھوڑ دیا ہے۔
تاہم، ڈچ بینک ING کے اسٹریٹیجِسٹ وارن پیٹر سن اور ایوا مانٹھی نے ایک تحقیقی نوٹ میں لکھا کہ اگر ایران کا منصوبہ 'زیادہ توانائی کی قیمتوں کے ذریعے تکلیف پہنچانا' ہے تو وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ٹینکروں کی تعداد بہت محدود رکھ سکتا ہے۔








