اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے دعویٰ کیا کہ ایران کے مشیر سلامتی علی لاریجانی کو فضائی حملے میں ہلاک کر دیا گیا۔
اپنے دفتر کی جاری کردہ ایک بیان میں کاتز نے الزام لگایا کہ لاریجانی اور بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کو رات بھر ہونے والے حملوں میں 'ختم' کر دیا گیا۔
کاتز نے اپنی وزارت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں دعویٰ کیا کہ مجھے ابھی چیف آف اسٹاف نے آگاہ کیا ہے کہ لاریجانی، اور بسیج کے سربراہ سلیمانی کل شب ختم کر دیے گئے ہیں
اسرائیلی میڈیا نے پہلے اطلاع دی تھی کہ لاریجانی اسرائیل کی طرف سے رات بھر کیے گئے حملوں کا ہدف تھے۔
ایرانی حکام کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردِ عمل موصول نہیں ہوا۔
لاریجانی کے ایکس اکاؤنٹ پر آخری پوسٹ منگل، 17 مارچ کو 09:40 پر کی گئی تھی۔ یہ پوسٹ ایک دستی نوٹ تھی جس میں ایران ی بحریہ کے اُن افراد کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا جنہوں نے اپنی جانیں کھو دی تھیں۔
اگر ان کی موت کی تصدیق ہو گئی تو وہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بعد سب سے اعلیٰ ایرانی عہدیدار ہوں گے، جو جنگ کے پہلے دن ہلاک ہوئے تھے۔
لاریجانی، جو سابقہ جوہری مذاکرات کار اور خامنہ ای کے قریبی حلیف ہیں، جمعہ کو تہران میں یومِ قدس کی ریلیوں میں حصہ لیتے ہوئے دکھائی دیے۔
اسی روز بعد ازاں، امریکہ نے ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک 10 شخصیات کی فہرست کے حصہ کے طور پر لاریجانی سمیت اعلیٰ ایرانی عسکری اور خفیہ اہلکاروں کے بارے میں معلومات کے عوض 10 ملین ڈالر تک کے انعام کی پیشکش کی۔












