امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معاونین کو ایران کے خلاف وسیع تر ناکہ بندی کی تیاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔
وال اسٹریٹ جنرل کی امریکی حکام کے حوالے بروز منگل شائع کردہ خبر کے مطابق ٹرمپ نے حالیہ اجلاسوں میں جہازوں کی آمد و رفت کو روک کر ایران کی معیشت اور تیل برآمدات پر دباؤ بڑھانے کو ترجیح دی ہے۔
خبر کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے خیال میں بمباری کا دوبارہ آغاز یا تنازعے سے مکمل پس قدمی جیسے دیگر پہلو ناکہ بندی جاری رکھنے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی شروع کی تھی۔ جواباً تہران نے اس موقف کے ساتھ کہ وہ خطّے میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے زیادہ تر خلیجی ممالک پر حملے کئے تھے۔
8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد 11تا12 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات ہوئےلیکن کسی معاہدے پر نہیں پہنچا جا سکا۔
بعد ازاں جاری کردہ بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کو تہران کی جانب سے کوئی پیشکش سامنے آنے تک بڑھا دیا گیا ہے ۔
پیر کے روز جاری کردہ بیان میں ٹرمپ نے کہا تھاکہ تہران کی پیش کردہ اور آبنائے ہُرمز کو کھولنے اور جوہری مذاکرات کو آئندہ پر مؤخر کرنے پر مبنی تجویز کو قبول کرنے کا امکان کم ہے۔













