غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
خیراتی گروپ: امریکا کی متنازع امداد پر سوالیہ نشانات
جمعرات کو فیس بک پر جاری کردہ ایک بیان میں، رحمہ نے کہا کہ وہ چار دن سے 4,000 کھانے کے ڈبے اور 16 کنٹینرز گندم غزہ میں پہنچانے کا انتظار کر رہی ہے، لیکن ضرورت مندوں تک یہ امداد پہنچانے میں ناکام رہی۔
خیراتی گروپ: امریکا کی متنازع امداد پر سوالیہ نشانات
Gaza Humanitarian Foundation / AFP

رحمہ ورلڈوائیڈ، جو کہ ایک امریکی خیراتی تنظیم ہے، نے اسرائیل کی حمایت یافتہ اور متنازعہ غزہ رحمہ ورلڈوائیڈ، جو کہ ایک امریکی خیراتی تنظیم ہے، نے اسرائیل کی حمایت یافتہ اور متنازعہ غزہ امدادی اوقاف پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے اس کی امداد ضبط کر لی اور اس کے لوگو کو بغیر اجازت استعمال کیا۔

جمعرات کو فیس بک پر جاری کردہ ایک بیان میں، رحمہ نے کہا کہ وہ چار دن سے 4,000 کھانے کے ڈبے اور 16 کنٹینرز گندم غزہ میں پہنچانے کا انتظار کر رہی ہے، لیکن ضرورت مندوں تک یہ امداد پہنچانے میں ناکام رہی۔

رحمہ کے مطابق، جی ایچ ایف نے اس امداد کو اپنی تحویل میں لے لیا اور کہا کہ وہ اس کی تقسیم میں مدد کرے گا، جسے رحمہ نے مسترد کر دیا۔

جمعرات کو دی گارڈین کو دیے گئے ایک بیان میں، رحمہ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کھانے کے ڈبوں کی تصاویر، جن پر اس کا لوگو موجود تھا، اس کی براہ راست شمولیت کے بغیر گردش کر رہی تھیں۔

یہ تصاویر، جو جی ایچ ایف کے پریس مواد میں بھی شامل تھیں، رحمہ اور اس کے شراکت دار ادارے ہیروئک ہارٹس کے لوگوز کے ساتھ دیکھی گئیں۔

جی ایچ ایف کو اس کے قیام سے ہی تنازعات کا سامنا رہا ہے۔ زیادہ تر انسانی امدادی تنظیموں، بشمول اقوام متحدہ، نے جی ایچ ایف سے فاصلہ اختیار کیا ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ یہ گروپ انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے اور امداد کو محدود کرتا ہے۔

انتشار اور بے عزتی

متنازعہ غزہ امدادی اوقاف  نے منگل کو جنوبی غزہ میں ایک امدادی تقسیم مرکز میں کام شروع کیا۔

اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی کے سربراہ، فلپ لازارینی نے کہا، "ہم نے بھوکے لوگوں کی تصاویر دیکھی ہیں جو باڑ کے خلاف دھکیل رہے ہیں، کھانے کے لیے بے تاب ہیں۔ یہ انتشار، بے عزتی اور غیر محفوظ تھا۔"

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کے رابطہ (او سی ایچ اے) نے خبردار کیا کہ جی ایچ ایف کی جانب سے امداد کی تقسیم غزہ میں فوری انسانی ضروریات سے توجہ ہٹانے کا خطرہ پیدا کرتی ہے، جیسے کہ مستقل رسائی، محفوظ حالات اور ہنگامی سامان کی فوری منظوری۔

حقوق کے گروپوں نے تل ابیب پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کو جان بوجھ کر بھوکا رکھ رہا ہے اور کھانے کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

اسرائیل نے 2 مارچ سے غزہ کی گزرگاہوں کو کھانے، طبی اور انسانی امداد کے لیے بند رکھا ہوا ہے، جس سے اس علاقے میں پہلے سے موجود شدید انسانی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے اور غزہ کے 24 لاکھ رہائشی متاثر ہو رہے  ہیں۔متاثر ہو رہے ہیں۔

دریافت کیجیے
فلپائن میں 6.3 کی شدّت کا زلزلہ
چین کے شاانشی صوبے میں شدید بارشوں کے باعث ایک لاکھ 15 ہزار لوگوں کی نقل مکانی
ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر معاہدے کے قریب ہیں: رپورٹ
گوئٹے مالا: فیوگو آتش فشاں میں دھماکے
روسی علاقوں پر یوکرینی ڈراونز کی بارش، ماسکو پر حملے میں پانچ افراد ہلاک
نتن یاہو غزہ میں جنگ بندی یا ٹرمپ کے منصوبے کے تحت انخلاء کو مسترد کرتے ہیں: رپورٹ
امریکہ: 65,000 سے زیادہ شہری اپنے گھروں سے نکال گئے
شمالی کوریا: امریکہ اور اس کے اتحادی ایشیا-پیسیفک میں 'نئے سیکیورٹی بحران' کو ہوا دے رہے ہیں
ترکیہ خفیہ سروس کے چیف کی غزہ امن منصوبے پر بحث کرنے کے لیے حماس کے رہنما سے ملاقات
اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں نے مغربی کنارے میں جولائی میں 2,256 حملے کیے
آسٹریلیا: ایچ فائیو برڈ فلو کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر پرندے ہلاک
ایران: عمان کے ساتھ مذاکرات آبنائے ہرمز  سے بحری آمدروفت کے موضوع پر مرکوز ہیں
اسد اقتدار کا خاتمہ شام سمیت خطے کےلیے ناگزیر تھا: احمد الشراع
یوکرین اور روس کے مابین حملوں میں شدت آگئی،متعدد ہلاکتیں
مصر میں  5.3 شدت کا زلزلہ،عوام میں خوف و ہراس