دنیا
3 منٹ پڑھنے
یونان-اسرائیل کے درمیان 3٫6 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ
'دی یروشلم پوسٹ' نے رپورٹ کیا کہ تقریباً تین سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد، ایک یونانی وفد تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کرے گا
یونان-اسرائیل کے درمیان 3٫6 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ
یونان-اسرائیل / AP

اسرائیلی اور یونانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، یونان خطے میں اسرائیلی حملوں کی وجہ سے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مذمت کے باوجود تین اسرائیلی فضائی دفاعی نظام خریدنے کے لیے 3.6 بلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

'دی یروشلم پوسٹ' نے رپورٹ کیا کہ تقریباً تین سال تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد، ایک یونانی وفد تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کرے گا۔

یہ معاہدہ ڈیوڈز سلنگ ، اسپائیڈر  اور باراک ایم ایکس سسٹمز پر مشتمل ہے، جنہیں یونان کے مجوزہ کثیر الفطرت "ایکیلیز شیلڈ"  فضائی دفاعی نیٹ ورک میں ضم کیا جائے گا۔

توقع ہے کہ اسرائیلی کمپنی 'رافیل'  کو اس معاہدے کا سب سے بڑا حصہ ملے گا، جو بیلسٹک اور بھاری میزائلوں کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ڈیوڈز سلنگ اور ڈرونز و فضائی اہداف کے خلاف استعمال ہونے والا موبائل اسپائیڈر سسٹم فراہم کرے گی۔ دوسری طرف، 'اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز'  طیاروں اور میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کرنے والا باراک ایم ایکس سسٹم فراہم کرے گی۔

اس منصوبے میں مصنوعی ذہانت  سے لیس ملک گیر کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک بھی شامل ہے، جو خطرات کی درجہ بندی کرنے اور دفاعی کارروائیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے سنسرز اور رادار سسٹمز کو آپس میں جوڑے گا۔

امکان ہے کہ اسپائیڈر بیٹریاں یونانی جزائر پر نصب کی جائیں گی، جبکہ یونانی دفاعی صنعت کی کمپنیوں کو تقریباً 820 ملین ڈالر کے ذیلی کنٹریکٹ  ملنے کی توقع ہے۔ اسرائیلی معاشی اخبار 'کالکالسٹ' کے مطابق، اس منصوبے کو تقریباً 35 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ایتھنز کی جانب سے مقامی شراکت داری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سسٹمز کی خود مختار دیکھ بھال کے لیے سافٹ ویئر سورس کوڈز تک رسائی کے مطالبے کے بعد، 12 تک یونانی کمپنیوں کا اس منصوبے میں کم از کم 25 فیصد حصہ ہونے کی توقع ہے۔

 یونانی اخبار 'کیتھیميرینی'  نے بھی رپورٹ کیا کہ اس معاہدے پر پیر کے روز دستخط متوقع ہیں۔

اگر یہ معاہدہ مکمل ہو جاتا ہے، تو یہ فروخت اسرائیل کی جانب سے 2023 میں جرمنی کو 3.5 بلین ڈالر کے ایرو 3  فضائی دفاعی نظام کی فروخت کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دے گی۔

ایتھنز اس خریداری کے عمل کو ایسے وقت میں آگے بڑھا رہا ہے جب اسرائیل غزہ میں اپنی نسل کشی کی جنگ کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر تیزی سے تنہا ہو رہا ہے، اور اسے قانونی تحقیقات اور بڑے پیمانے پر مذمت کا سامنا ہے۔ غزہ میں ہونے والے حملوں میں 73,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

یونان کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ مغربی حکومتوں نے غزہ میں نسل کشی کی وجہ سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت محدود کر دی ہے، جس سے عالمی ہتھیاروں کی تجارت میں گہرے اختلافات واضح ہو رہے ہیں۔

برطانیہ نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کے خدشات کے پیش نظر اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد کے تقریباً 30 لائسنس معطل کر دیے ہیں۔

اٹلی اور اسپین نے 7 اکتوبر کے بعد ہتھیاروں کے نئے معاہدے روک دیے ہیں، جبکہ میڈرڈ نے ہتھیار لے جانے والے جہازوں کے ہسپانوی بندرگاہوں میں داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ کینیڈا اور بیلجیم نے بھی مستقبل میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی کو محدود یا بند کرنے کے لیے اقدامات کیے ہیں، جبکہ نیدرلینڈز کی ایک عدالت نے اسرائیل کو ایف-35 پرزوں کی براہ راست برآمد کو روک دیا ہے۔

 

 

دریافت کیجیے
طوفان ساودل چین میں ہلاکت خیز لرزشِ اراضی کا موجب بنا
ترکیہ امریکہ-ایران جنگ  کے خاتمے کے لیے سرگرداں ہے، صدر ایردوان
بولیویا کی فوجی چھاونی میں دھماکے  میں 10 سے زیادہ افراد ہلاک
گِرنے کے قریب ڈوبنے والی فیری بوٹ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 12ہو گئی
ووکس ویگن نے دنیا بھر میں مزید 50,000 ملازمتیں ختم کر دیں
یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان تصادم میں درجنوں افراد ہلاک
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور