نیپال کے پہاڑی ضلع گورکھا میں اختتامِ ہفتہ کے روز اچانک آنے والے سیلاب کی وجہ سے پُل بہہ جانے اور ٹریکنگ کے راستوں کو نقصان پہنچنے کے بعد 100 سے زائد غیر ملکی سیاح پھنس گئے ہیں۔
مقامی خبر رساں ادارے 'آن لائن خبر' نے پیر کے روز مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ لوکپا اور چوملنگ کے درمیان تودے گرنےکے باعث بوڑھی گنڈکی ندی کا راستہ بلاک ہو گیا جو کہ سیلاب کا سبب بنا۔
اس واقعے کے بعد خواتین سمیت پانچ دیہاتی اب بھی لاپتہ ہیں۔
نیپال کی قومی ایجنسی برائے انسداد آفات کا کہنا ہے کہ فوج کے چار ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور اب تک کم از کم 47 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
اس مہم میں کل 437 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
مذکورہ ایجنسی کے مطابق سیلاب نے کئی پُلوں کو تباہ کر دیا ہے جبکہ مکانات، دو ٹیلی فون ٹاورز اور بجلی کے 50 کھمبوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
جگت گاؤں میں پھنسے ہوئے ایک بنگلہ دیشی سیاح محمد شہادت حسین نے بتایا کہ نو بنگلہ دیشی شہری ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکالے جانے کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کل سے جگت میں پھنسے ہوئے ہیں۔
گاؤں کے اوپری حصے سے اچانک سیلاب آیا اور اس کے نچلے حصے سے ہوتا ہوا گزر گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ نیپالی شہریوں سمیت 200 سے زائد ٹریکرز گاؤں میں بحفاظت پناہ لیے ہوئے ہیں، لیکن اب سامانِ رسد کم ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم محفوظ ہیں لیکن کل سے بجلی غائب ہے بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے، اور کھانے پینے کی اشیاء کا ذخیرہ بتدریج ختم ہو رہا ہے۔"
چین کے ساتھ نیپال کی سرحد کے قریب واقع مناسلو سرکٹ ہمالیہ کا ایک مقبول ٹریکنگ روٹ ہے اور اکتوبر کا مہینہ یہاں سیاحت کے لیے مصروف ترین مہینوں میں شمار ہوتا ہے۔
















