مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
تہران نے تجویز پیش کر دی
ایران کی تجویز پاکستان سمیت ثالث ممالک کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دی گئی ہے
تہران نے تجویز پیش کر دی
فائل فوٹو: تہران میں 2022 میں ایرانی پرچم لہرا رہے ہیں۔ رائٹرز / Reuters

ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، جنگ ختم کرنے اور جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

ایکسیئس نیوز ویب سائٹ کی خبر کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر سفارتی تعطل پیدا ہونے کے بعد یہ تجویز پاکستان سمیت ثالث ممالک کے ذریعے امریکہ تک پہنچا دی گئی ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق اس منصوبے کا مقصد یورینیم افزودگی سے متعلقہ اختلافات کو فی الحال ایک طرف رکھتے ہوئے ناکہ بندی کے خاتمے اور بحری آمدورفت کی بحالی پر توجہ مرکوز کر کے  ایک تیز رفتار معاہدہ  طےکرنا ہے۔

تجویز کی رُوسےجنگ بندی کو طویل عرصے تک بڑھایا جائے گا یا  مستقل شکل دی جائے گی تاہم جوہری مذاکرات کا آغاز آبنائے ہُرمز کو دوبارہ کھولے جانے اور پابندیاں ختم کئے جانے کے بعد  ہی ہوگا ۔

ایک امریکی عہدیدار اور مذاکرات سے واقف ذریعے نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے تجویز موصول کر لی ہے تاہم اس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ آیا وہ اس پر پیش رفت کرے گا یا نہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں توقع ہے کہ وہ پیر کے روز سچویشن روم میں اعلیٰ سطحی قومی سلامتی حکام کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ اجلاس میں موجودہ تعطل اور ممکنہ اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی جاری رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ "اگر آپ کے پاس بڑی مقدار میں تیل ہو اور ترسیلی پائپ لائن بند ہو جائے تو پائپ لائن اندر سے پھٹ جاتی ہے۔ ایران کے پاس اس  اندرونی دباؤ سے بچنے کے لئے "تقریباً تین دن" باقی ہیں۔

واضح رہے کہ ہفتے کے آخر میں سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے سے متعلق بات چیت کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور عمان کے دارالحکومت مسقط میں ملاقاتیں کی ہیں۔

عراقچی پیر کی صبح روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتوں کے لیے سینٹ پیٹرزبرگ پہنچ گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا ہے کہ  "یہ حساس سفارتی مذاکرات ہیں اور سارے پتّے امریکہ کے ہاتھ میں ہیں۔"

ایران اور امریکہ نے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کئے تھےلیکن تنازعے کے خاتمے کے لیے کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا تھا۔

یہ مذاکرات 8 اپریل کو پاکستان کی جانب سے دو ہفتوں کی جنگ بندی کرانے کے بعد شروع ہوئے تھے۔  بعد ازاں  ٹرمپ نے جنگ بندی کی مہلت میں اضافہ کر دیا تھا۔

اگرچہ مذاکرات کے نئے دور کے لیے کوششیں جاری ہیں لیکن اہم اختلافی نکات میں آبنائے ہرمز، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی، اور ایران کا یورینیم افزودگی کا حق شامل ہیں۔

دریافت کیجیے
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی
جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار کردیا؛ جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع