انڈونیشیا کے صوبے بانتین کے سرچ اینڈ ریسکیو آفس کے سربراہ الامرد نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک تیز رفتار کشتی جس میں 5 فوٹو جرنلسٹ، عملے کے دو ارکان اور ایک گائیڈ سوار تھے،اُن سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔
الامرد نے بتایا کہ صحافیوں میں سے ایک نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھیجے گئے ایک پیغام میں کہا تھا کہ وہ اناک کراکاتاؤ کے آس پاس کے پانیوں میں پہنچ چکے ہیں اور انہوں نے واضح کیا کہ یہ اس ٹیم کی طرف سے موصول ہونے والا آخری پیغام تھا۔
الامرد نے کہا کہ علاقے میں موجود سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں ابھی تک اس گروپ سے رابطہ قائم کرنے اور ان کے مقام کا پتہ لگانے میں ناکام رہی ہیں۔
جن لوگوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے ان میں اناطولویہ ایجنسی کے لیے فری لانس کیمرہ مین کے طور پر کام کرنے والے فردوس واجدی سمیت انڈونیشیا کی سرکاری نیوز ایجنسی انتارا، میردیکا اور آئی نیوز ایجنسیوں کے ملازمین شامل ہیں۔
انڈونیشیا کے آتش فشاں اناک کراکاتاؤ میں 6 ستمبر کو دھماکہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں نکلنے والی راکھ جاوا کے علاقے میں 6 ہزار میٹر اور سماٹرا کے علاقے میں 15 ہزار میٹر کی بلندی تک پہنچ گئی تھی۔
دھماکے کے بعد آتش فشاں کی راکھ ملک کے مغربی حصوں میں پھیلنے کی وجہ سے دارالحکومت جاکارتا کے سوئیکارنو-ہاتا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازیں منسوخ کر دی گئی تھیں۔
دھماکے کے بعد ملک بھر میں 2,300 سے زائد مقامی اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کی گئیں، جبکہ 7 ایئرپورٹس پر لگ بھگ 3 لاکھ 40 ہزار مسافر پھنس کر رہ گئے۔


















