ازبکستان نے ایران کے بعض سفارتی اہلکاروں کی جانب سے سمرقند کی تاریخی عمارتوں کو ’’ایرانی اسلامی تہذیب‘‘ کا حصہ قرار دینے والی سوشل میڈیا پوسٹوں پر احتجاج کرتے ہوئے ایران کے سفیر برائے تاشقند، محمد علی اسکندری کو وزارتِ خارجہ طلب کیا اور تہران حکومت کے لئے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا ہے۔
ازبکستان وزارتِ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں ان سوشل میڈیا پوسٹوں کو سمرقند کے تاریخی و ثقافتی ورثے کی ’’یک طرفہ اور سیاسی مقاصد کے تحت تشریح‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سفارتی عملے کو تاریخی و ثقافتی معاملات کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی ایران سے مطالبہ کیا گیا ہےکہ وہ مذکورہ پوسٹوں کوسوشل میڈیا سے ہٹا دے۔
واضح رہے کہ ایران کے آرمینیا اور زمبابوے میں قائم سفارت خانوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹوں پر گزشتہ ہفتے ایک ویڈیو شیئر کی گئی تھی، جس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور ان کے ہمراہ وفد کو سمرقند کے دورے کے دوران دکھایا گیا تھا۔ ان سفارت خانوں نے اپنی پوسٹوں میں دعویٰ کیا تھا کہ شہر کی تاریخی عمارتوں کے محرابی طرزِ تعمیر "ایرانی اسلامی تہذیب کی نمایاں خصوصیت" ہیں۔


















